سلسلہ احمدیہ — Page 510
510 صاحب نے اس الزام کے متعلق سوالات شروع کیسے کہ نعوذ باللہ احمدیوں نے قرآنِ کریم میں تحریف کی ہے۔اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی کہ چیئر مین کمیٹی اور اٹارنی جنرل اس بات پر کچھ زیادہ آمادہ نہیں دکھائی دیتے تھے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے حضور اقدس کے علاوہ اور کوئی ممبر وفد کسی سوال کا جواب دے۔بیشتر اس کے کہ تحریف قرآن مجید کے متعلق سوالات شروع ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے کچھ اصولی باتیں بیان فرمائیں۔حضور نے قرآنی تفسیر کے سات معیار بیان فرمائے۔آپ نے پہلا معیار یہ بیان فرمایا کہ چونکہ قرآن کریم میں کوئی تضاد نہیں اس لیے قرآن کریم کی کسی آیت کی کوئی ایسی تفسیر نہیں کی جاسکتی جو کہ کسی اور آیت کے مخالف ہو۔دوسرا معیار آنحضرت کی وہ صحیح احادیث ہیں جن میں قرآنی آیات کی تفسیر بیان کی گئی ہے اور تیسرا معیار یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ نے جو تفسیر کی ہے اسے ترجیح اس لیے دینی پڑے گی کیونکہ صحابہ کو کی صحبت سے ایک لمبا عرصہ فیض اٹھانے کا موقع ملا تھا۔اسی طرح چوتھا معیار یہ ہے کہ سلف صالحین نے جو تفسیر بیان کی ہے اسے بھی ہم قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔پانچواں معیار عربی لغت ہے۔اور یہ مد نظر رہے کہ بعض دفعہ ایک لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔چھٹا معیار یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قول و فعل میں کوئی تضاد ممکن نہیں ہے۔اگر کوئی تفسیر ایسی کی جارہی ہے جو کہ خدا تعالیٰ کے اس فعل کے مخالف ہے جو سائنس کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوا ہے تو یہ تفسیر رد کرنے کے قابل ہے۔اور ایک اصول حضور نے یہ بیان فرمایا کہ ہر نئے زمانے میں نئے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے اور قرآنِ کریم ان نئے مسائل کے حل کے لیے بھی راہنمائی کرتا ہے۔اس لیے ہم یہ کبھی نہیں کہہ سکتے کہ قرآن کریم کے جتنے مطالب تھے سب سامنے آگئے ہیں اور اب کوئی اور نئے مطالب سامنے نہیں آئیں گے۔حضور کے اس لطیف بیان کے بعد مولوی ظفر احمد صاحب انصاری نے تحریف پر سوالات شروع کیے۔اور پہلا سوال یہ کیا کہ : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ازالہ اوہام میں سورۃ حج کی آیت ۵۳ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي۔۔الخ اور کہا کہ جو کتاب جماعت احمدیہ نے شائع کی ہے اس میں قَبلِک کا لفظ نہیں ہے۔اب یہ نا معقول اعتراض ہے اسے سہو کتابت تو کہا جاسکتا ہے لیکن کسی طرح تحریف نہیں کہا جا سکتا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے سوسے زائد مرتبہ قرآن کریم شائع کیا گیا ہے اور