سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 511 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 511

511 ان میں سے کسی میں بھی یہ آیت بغیر قبلی کے لفظ کے موجود نہیں۔اور ازالہ اوہام جب روحانی خزائن کے نام سے شائع کی گئی تو اس میں بھی یہ آیت درست موجود ہے،حضور نے ان امور کی نشاندہی فرمائی۔اور خود غیر احمدیوں کے شائع کردہ قرآن کریم کے کئی نسخوں میں سہو کتابت کئی جگہ پر پائی جاتی ہے۔پھر دوبارہ اس موضوع پر سوالات شروع ہوئے تو ظفر احمد انصاری صاحب نے یہ بیان کرنا شروع کیا کہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کا جو انگریزی ترجمہ قرآن ہے۔Commentary کے ساتھ۔ابھی وہ بات مکمل نہیں کر پائے تھے کہ حضور نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا کوئی انگریزی ترجمہ قرآن موجود نہیں ہے۔لیکن مولوی صاحب یہ بات دہرانے کے باوجود بات سمجھ نہیں پائے اور کہنے لگے کہ انہوں نے ترجمہ کیا ہے And they have firm faith in what is yet to come ان کی مراد یہ تھی کہ سورۃ بقرۃ کی پانچویں آیت کے آخری حصہ وَ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔گویا ان کے نزدیک آخرہ کے لفظ کا ترجمہ صرف آخرت ہی ہوسکتا ہے۔عربی لغت کے اعتبار سے یہ اعتراض بے بنیاد ہے کیونکہ اخر کا لفظ اول کے مقابل پر استعمال ہوتا ہے۔اور آخرت کے علاوہ اس آیت میں سیاق و سباق کے لحاظ سے اس کا مطلب بعد میں ظاہر ہونے والے واقعات بھی ہو سکتے ہیں۔اس کے بعد مولوی ظفر انصاری صاحب نے کچھ مثالیں دے کر یہ اعتراض اٹھایا کہ مرزا صاحب نے یہ دعوی کیا ہے کہ انہیں قرآنی آیات الہام ہوئی ہیں۔اس سے وہ دونتائج نکال رہے تھے ایک تو یہ کہ یہ ٹھیک نہیں کہ قرآنی آیات امت میں کسی کو الہام ہوں اور دوسرے اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ جو آیات آنحضرت ﷺ کی شان میں تھیں بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے انہیں اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔اس اعتراض سے یہی تاثر ملتا ہے کہ معترض کو اسلامی لٹریچر پر کچھ زیادہ دسترس نہیں ہے۔کیونکہ تاریخ اسلام ان مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ امت کے مختلف اولیاء کو قرآنی آیات الہام ہوئیں۔تو اس طرح یہ اعتراض ان سب عظیم اولیاء پر بھی اُٹھتا ہے۔اگر وہاں پر موجود مخالفین کے ذہن میں یہ خیال تھا کہ یہ اعتراض اٹھا کر انہوں نے کوئی بڑا تیر مارا ہے تو یہ خوش فہمی جلد دور ہوگئی۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ ” جہاں تک آیات قرآنی بطور