سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 447 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 447

447 نے کارروائی لکھنے والوں کو جانے کا کہا۔۱۰ راگست کی کارروائی اس روز کی صبح کی کارروائی کے دوران زیادہ تر پرانے حوالوں پر ہی بات ہوئی۔ان کو چیک کر کے اسمبلی میں ان کی صحیح اور مکمل عبارت سنائی گئی۔بعض حوالے ایسے بھی تھے جو غلط دیئے گئے تھے۔ایک بار پھر بحث اس نقطہ کی طرف واپس آگئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر میں جب حقیقی مسلمان کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں تو اس سے کیا مطلب لیا جائے۔یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف آئینہ کمالات اسلام کا ایک حوالہ پیش نظر تھا جس کا حوالہ محضر نامہ میں بھی دیا گیا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب نے جب یہ سوال کیا اور کہا کہ جب اس قسم کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس سے یہ تاثر پڑتا ہے کہ جو غیر احمدی ہیں وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اصل میں مسلمان نہیں ہیں۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ اس کا جواب محضر نامہ میں آچکا ہے لیکن چونکہ سوال دہرایا گیا ہے اس لئے میں اس کا جواب دہرانا چاہتا ہوں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف لطیف آئینہ کمالات اسلام کا حوالہ پڑھ کر سنایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر میں جب اصطلاح حقیقی مسلمان کی استعمال ہوتی ہے تو اس کا کیا مطلب لینا چاہئے۔یہ عبارت غور سے پڑھنی چاہئے۔کیونکہ اس مرحلہ پر جو کارروائی ہوئی مختلف اسمبلی ممبران اس کو توڑ موڑ کر اور غلط اضافوں کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہے اور اپنے بیانات کی زینت بناتے رہے تا کہ یہ ثابت کریں کہ اگر اسمبلی نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا تو اس کے ذمہ دار احمدی خود ہیں کیونکہ انہوں نے اس کارروائی کے دوران یہ موقف پیش کیا تھا کہ ہم اپنے علاوہ دوسرے مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے۔بہر حال حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے حضرت مسیح موعود عیہ السلام کا جو حوالہ پڑھا وہ یہ تھا : دو اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ بلى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَرَبَّةٍ وَلَا خَوْفٌ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے