سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 441 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 441

441 تھے لیکن اٹارنی جنرل صاحب اور انہیں سوالات مہیا کرنے والوں کا ذہن کج روی کا شکار تھا۔ابھی یہ بحث کسی نتیجہ کے قریب نہیں پہنچی تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب نے موضوع تبدیل کیا اور یہ اعتراض پیش کیا کہ احمدیوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ رکھا ہے۔حالانکہ احمدیوں نے تو ہمیشہ مظالم کا نشانہ بننے کے باوجود مسلمانوں کے مفادات کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔یہ اعتراض اس لئے بھی بے بنیاد تھا۔عالم اسلام میں بہت سے فرقوں نے بہت سے پہلوؤں سے اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھا ہے۔بلکہ بہت سے علماء نے دوسرے فرقوں کے متعلق یہ فتاوی دیئے تھے کہ ان کے ساتھ شادی بیاہ، مودت تو ایک طرف رہی عام معاشی تعلقات بھی حرام ہیں۔اور اس سلسلہ میں انہوں نے بہت سے الفضل کے حوالے بھی نوٹ کرائے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ یہ حوالے نوٹ کر لئے جائیں ان کو چیک کر کے جواب دیا جائے گا۔اس کے بعد یہ گھسا پٹا اعتراض دہرایا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انگریز گورنمنٹ کی اطاعت اور ان سے تعاون کا حکم دیا تھا۔اول تو اس اعتراض کا اس مسئلہ سے کیا تعلق تھا کہ جس پر غور کرنے کے لیے یہ کمیٹی کام کر رہی تھی۔زیر غور مسئلہ تو یہ تھا کہ جوشخص حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی صلى الله نہیں مانتا اس کا اسلام میں کیا Status ہے اور یہ سوال کیا جارہا ہے کہ آج سے کئی دہائیاں قبل جب برصغیر میں انگریزوں کی حکومت قائم تھی تو کیا احمدی اس حکومت کی اطاعت کرتے تھے یا نہیں۔کوئی بھی صاحب شعور دیکھ سکتا ہے کہ غیر متعلقہ امور پر سوالات کر کے محض اصل موضوع سے کنارہ کیا جارہا تھا۔اور یہ سوال قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کیا جارہا ہے۔اگر ایک منٹ کے لیے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ جس گروہ نے انگریز حکومت کی اطاعت کی تھی اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دینا چاہئے۔یا اگر کوئی گروہ اس وقت انگریزوں کی حکومت سے تعاون کر رہا تھا تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ اس نے اپنے آپ کو امت مسلمہ سے علیحدہ رکھا ہے۔تو پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس وقت کون کون سے گروہ انگریز حکومت کی اطاعت کر رہے تھے اور ان سے تعاون کر رہے تھے۔یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہئے کہ انگریزوں کی حکومت قائم ہونے سے قبل ہندوستان ایک طوائف الملو کی کے خوفناک دور سے گزر رہا تھا۔مغل سلطنت تو اب لال قلعہ کی حدود تک محدود ہو چکی تھی۔اور اس دورِ خرابی میں ہندوستان میں بالعموم اور بالخصوص پنجاب میں خاص طور پر مسلمانوں کے حقوق بری طرح پامال کیے جارہے تھے۔اور