سلسلہ احمدیہ — Page 431
431 پرانے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہوسکتا تو پھر وہ بھی نہیں ہو سکتا جسے پہلے ہی نبوت ملی ہو۔اس کے جواب میں حضور نے یہ پر معرفت نکته بیان فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام شریعت موسویہ کو جاری کرنے کے لئے دنیا میں آئے تھے۔اس پر یحییٰ بختیار صاحب نے جو کچھ فرمایا وہ انہیں کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا: 66 ”مرزا صاحب ان کی اتھارٹی change ہوگئی۔“ حضرت خلیفہ امسیح الثالث فرما رہے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام تو صرف حضرت موسیٰ کی پیروی اور تورات کی پیروی میں بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے جیسا کہ انجیل میں ان کے بہت سے اقوال سے ثابت ہے اور سب سے بڑھ کر قرآن کریم میں ان کے متعلق یہ ارشاد موجود ہے وَرَسُولًا إلى بَنِي إِسْرَاعِيْلَ (ال عمران : (۴۹) یعنی حضرت عیسی بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے اور یہ خبر ان کی والدہ کو ان کی پیدائش سے قبل اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھی اور کسی آیت میں یہ نہیں آتا کہ ان کو کسی اور قوم کی طرف مبعوث کیا جانا مقدر تھا۔لیکن اب قومی اسمبلی میں اٹارنی جنرل صاحب یہ اعلان فرما رہے تھے کہ اب ان کی اتھارٹی change ہوگئی ہے۔گویا ان کے نزدیک قومی اسمبلی صرف یہی اختیار نہیں رکھتی تھی کہ کون مسلمان ہے کہ اور کون نہیں بلکہ یہ اختیار بھی رکھتی تھی کہ کس نبی کا دائرہ کار کیا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے اس نکتے کی وضاحت نہیں فرمائی کہ جو بات قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے وہ کس طرح تبدیل ہوگئی اور کس نے اسے تبدیل کر دیا۔اس مرحلہ پر کچھ دیر کے لئے یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ شاید اب یہ کارروائی اپنے اصل موضوع کی طرف آجائے اور وہ موضوع یہ مقرر ہوا تھا کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا اس کا اسلام میں کیا status ہے۔اور اس مرحلہ پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بڑے جامع انداز میں یہ بیان فرمایا تھا کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی کیا ہیں اور آنحضرت ﷺ کا اعلی اور ارفع مقام کیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ کیا تھا۔اور جب حضور نے یہ لطیف نکتہ صلى الله بیان فرمایا کہ تیرہ سو سال سے امت احمد یہ ایک ایسے مسیح کی منتظر رہی جس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے نبی کا لفظ بیان فرمایا تھا اور وہ پھر بھی آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے قائل تھے تو پھر اب اٹارنی جنرل صاحب کو چاہئے تھا کہ وہ اصل موضوع کے بارے میں سوالات اُٹھاتے اور بحث ایک ٹھوس