سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 406 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 406

406 ہوئے بعض نامناسب باتیں تحریر ہیں جماعت احمد یہ ان سے اتفاق نہیں کرتی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا رد بھی فرمایا ہے۔مثلاً بعض شیعہ کتب میں تو یہ بھی لکھا ہے حضرت حسینؓ کی ت سے کئی ہزار برس قبل حضرت آدم نے جب عرفات میں دعا کی تو پنجتن کا واسطہ دیا اور جب یہ واسطہ دیتے ہوئے حضرت حسین کا نام لیا تو آپ کے آنسونکل آئے۔شب معراج کے دوران خود آنحضرت ﷺ نے حضرت حسین کا گریہ فرمایا ، جب حضرت نوح کا سفینہ کربلا کے اوپر سے گزر رہا تھا تو اسے جھٹکا لگا اور حضرت نوح روئے، بساط سلیمانی جب کر بلا کے اوپر سے گزری تو اسے چکر آگیا۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوْقِنِينَ (الانعام: ۷۶) یعنی ” اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ( کی حقیقت ) دکھاتے رہے تا کہ (وہ) مزید یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔اس کی تفسیر میں شیعہ کتب میں لکھا ہے کہ جب اس دوران حضرت ابراہیم نے حضرت حسین کی شبیہ دیکھی تو گریہ شروع کر دیا۔اور جب عیسی نے حواریوں کے درمیان کربلا کا ذکر کیا اور سب رونے لگے اور حضرت موسیٰ جب کوہ طور پر گئے تو حضرت حسین کی وجہ سے بار بار روئے (۶۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریروں میں اور اشعار میں اس قسم کے عقائد کا کما حقہ ردفرمایا ہے۔جب اٹارنی جنرل صاحب کے اعتراض کے جواب میں حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے حضرت امام حسین کی شان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ تحریر پڑھنی شروع کی جس کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے تو یہ صورت حال ان ممبران کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگئی جو ان خیالات میں غرق تھے کہ وہ جو کچھ کہیں گے اس کو بغیر کسی بحث کے قبول کر لیا جائے گا۔سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد العزیز کھڑے ہوئے۔وہ اس وقت تو خاموش بیٹھے رہے جب کچھ نا مکمل حوالوں کو پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی تھی حضرت امام حسین کی تو ہین کی گئی لیکن جب حضرت امام حسین کی شان میں حوالے پڑھے گئے تو انہوں نے فوراً یہ ہیمل اعتراض کیا کہ اگر مرزا صاحب جو حوالہ پڑھ رہے ہیں اگر وہ کہیں شائع ہوا ہے تو وہ پڑھ سکتے ہیں۔لیکن اگر خالی یہاں بیٹھ کر اس سوال کے جواب میں وہ کچھ پڑھنا چاہتے ہیں تو شاید قواعد کی رو سے اس کی اجازت نہیں ہے۔شاید سپیکر صاحب بھی اس اعتراض کا سر پیر سمجھ نہیں پائے اور انہوں نے ممبر صاحب کو کہا کہ وہ بعد میں اٹارنی جنرل