سلسلہ احمدیہ — Page 377
377 کئے جائیں گے تاکہ وہ یہ سوال کریں لیکن اس مرحلہ پر جماعت کے مخالف مذہبی جماعتوں کے لیے یہ صورتِ حال برداشت سے باہر ہورہی تھی کیونکہ کارروائی کی نسج ان کی امیدوں کے برعکس جارہی تھی۔وہ یہ سوال اُٹھا رہے تھے کہ احمدی غیر احمدیوں کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھتے یا ان سے شادیاں کیوں نہیں کرتے لیکن اب ایسے حوالے سامنے پیش کئے جارہے تھے جن سے یہ واضح طور پر یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ اعتراض کرنے والے ممبران اسمبلی جن مختلف فرقوں سے تعلق رکھتے تھے ان کے علماء نے ایک دوسرے کو کافر مرتد اور بے دین قرار دیا ہے۔اور ان کے ساتھ نکاح کرنے یا ان کے پیچھے نماز پڑھنے یا ان کا جنازہ پڑھنے سے سختی سے منع کیا تھا۔سب سے پہلے جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور صاحب کھڑے ہوئے اور یہ اعتراض کیا کہ یہ ( یعنی جماعت کا وفد ) سوالات کو Avoid کرتے ہیں اور Side Track کرتے ہیں۔جب کوئی سوال پوچھا جاتا ہے تو بہت سے پوائنٹ (Point) بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہاں بات قابلِ غور ہے کہ جب کوئی سوال اُٹھتا تھا تو جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت خلیفہ اسیح الثالث اپنا موقف بیان فرماتے تھے۔کسی ایک مقام پر بھی غیر متعلقہ بات نہیں پیش کی گئی تھی۔اگر یہ سوال اُٹھایا جائے اور بار بار اٹھایا جائے کہ احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے ، ان کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھتے احمدی لڑکیاں غیر احمدی لڑکوں سے شادی کیوں نہیں کرتیں۔تو اگر اس کے جواب میں غیر احمدی علماء کے فتاویٰ جو ان فرقوں سے تعلق رکھتے تھے جن سے تعلق رکھنے والے ممبران یہ اعتراضات اٹھا رہے تھے ، پیش کیے جائیں جنہوں نے دوسرے فرقوں کو مسلمان سمجھنے پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا ہے ان کے ساتھ شادی کرنا تو در کنار ان سے سلام کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے، ان کی نماز جنازہ میں شرکت کو قطعاً حرام قرار دیا ہے، دوسرے فرقہ سے شادی کو زنا قرار دیا ہے، کوئی بھی ذی ہوش اس بیان کو غیر متعلقہ نہیں قرار دے سکتا۔سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اس پس منظر میں احمدیوں پر اعتراض ایک بے معنی بات نظر آتی ہے۔موضوع کے مطابق حوالہ جات پیش کئے جارہے تھے۔ان کو کسی طرح بھی Avoid کرنا اور Side Track کرنا نہیں کہا جا سکتا۔یہ تلملاہٹ اس لئے ظاہر ہورہی تھی کہ ان علماء کو اور دوسرے ممبران کو آئینہ دیکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ہاں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اصل موضوع سے گریز کیا جا رہا تھا۔جب کہ ممبران محضر نامہ پڑھ چکے تھے تو یہ ہمت کیوں