سلسلہ احمدیہ — Page 340
340 درج کرنے کا مقصد کیا ہے؟ (۴۲، ۴۳) قومی اسمبلی اور صدر انجمن احمدیہ کے درمیان مزید خط و کتابت ۲۲ جولائی ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری نے ناظر صاحب اعلیٰ کے نام ایک خط لکھا۔جس میں کچھ حوالے بھجوانے کا کہا گیا تھا۔یہ خط جو کہ در اصل سیکریٹری صاحب قومی اسمبلی نے مولوی ظفر انصاری ایم این اے کے ایک خط پر کارروائی کرتے ہوئے لکھا تھا۔اس خط سے یہ بخوبی ظاہر ہو جاتا تھا کہ خود قومی اسمبلی کو بھی نہیں معلوم کہ اس نے یہ کارروائی کس سمت میں کرنی ہے۔اس خط میں لکھا گیا تھا جماعت احمد یہ اس میمورنڈم کی کاپی بھجوائے جو کہ تقسیم ہند کے موقع پر جماعتِ احمدیہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔اور پروفیسر سپیٹ (Spate) جن کی خدمات حضرت مصلح موعود نے اس کمیشن میں کچھ امور پیش کرنے کے لئے حاصل کی تھیں، ان کے نوٹس اور تجاویز بھی کمیشن کو بھجوائی جائیں۔اس کے علاوہ الفضل کے کچھ شماروں اور دیــویــو آف ریــلیـجـنـز کے تمام شمارے بھجوانے کا بھی لکھا گیا تھا۔اب موضوع تو یہ تھا کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں سمجھتا ،اس کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس موضوع کے متعلق سوالات ہوں۔یا پھر اگر جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کے متعلق سوالات ہوتے تو بات کم از کم سمجھ میں بھی آتی مگر اس فرمائش سے تو لگتا تھا کہ اس کارروائی کے کرتا دھرتا افراد کا ذہن کہیں اور ہی جارہا تھا۔لیکن ان کو صدرانجمن احمدیہ کی جانب سے یہ جواب دیا گیا کہ یہ میمورنڈم اور پروفیسر سپیٹ کی تجاویز تو حکومت کے پاس ہی ہوں گی کیونکہ ان کو مسلم لیگ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔اور یہ حقیقت بھی تھی کیونکہ یہ سب کا غذات حکومت کی تحویل میں تھے اور جنرل ضیاء الحق صاحب کے دور میں ان کو شائع بھی کر دیا گیا تھا۔اب جو بھی سوالات اٹھنے تھے ان کے جوابات کے لئے حوالہ جات کی ضرورت ہوئی تھی تا کہ صحیح اور مناسب حوالہ جات کے ساتھ جوابات پیشل کمیٹی کے سامنے آئیں۔اب یہ کسی جرم کی تفتیش تو نہیں ہو رہی تھی کہ پہلے سے سوال بتا دینا مناسب نہ ہوتا۔عقائد کے متعلق ہی کارروائی ہوئی تھی۔چنانچہ جماعت کی طرف سے یہی مطالبہ کیا گیا کہ جو سوالات پیشل کمیٹی میں ہونے ہیں وہ اگر ہمیں مہیا کر دیئے جائیں تا کہ متعلقہ حوالہ جات بھی سوالات کے ساتھ پیش کئے جاسکیں کیونکہ وہاں پر جماعت