سلسلہ احمدیہ — Page 341
341 کے وفد کے پاس نوے سال پر پھیلا ہوا لٹریچر تو مہیا نہیں ہونا تھا۔بہر حال ۲۵ جولائی ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کے دفتر کی طرف سے ایڈیشنل ناظر اعلیٰ کو جواب موصول ہوا کہ سٹیرنگ کمیٹی نے اس پر غور کر کے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سوالات قبل از وقت مہیا نہیں کئے جا سکتے البتہ اگر کسی سوال کی تیاری کے لئے وقت درکار ہوا تو وہ دے دیا جائے گا۔اس خط سے یہ بھی اندازہ ہوتا تھا کہ قومی اسمبلی اور اس کے عملہ نے اس اہم کارروائی کی کوئی خاص تیاری نہیں کی ہوئی کیونکہ اس خط کے آغاز میں اور اس کے بعد بھی یہ لکھا ہوا تھا کہ اس موضوع پر انجمن احمدیہ کے ہیڈ سے زبانی بات ہوئی تھی اور اس خط سے یہ تاثر ملتا تھا کہ لکھنے والے کے ذہن میں ہے کہ جماعت کے وفد کی قیادت انجمن کے سر براہ کر رہے ہیں۔حالانکہ ناظر اعلیٰ یا صدر صدرانجمن احمدیہ سے اس موضوع پر کوئی زبانی بات ہوئی ہی نہیں تھی اور نہ ہی صدر صد را مجمن احمد یہ ا وفد کی قیادت کر رہے تھے۔اس وفد کی قیادت تو حکومت کے اصرار کی وجہ سے حضرت خلیفہ اسیح الثالث فرما رہے تھے۔چنانچہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے ایڈیشنل ناظر اعلیٰ مکرم مرزا خورشید احمد صاحب نے نیشنل اسمبلی کے سیکریٹری کو لکھا کہ اس وفد کی قیادت صدر انجمن احمدیہ کے سربراہ نہیں کر رہے بلکہ حضرت امام جماعت احمد یہ کر رہے ہیں۔صدر انجمن احمد یہ کے سربراہ تو اس کے صدر کہلاتے ہیں۔اب یہ ایک اہم قانونی غلطی تھی جس کو دور کر دیا گیا تھا لیکن آفرین ہے قومی اسمبلی کی ذہانت پر کہ اس کا بھی ایک غلط مطلب سمجھ کر دوران کا رروائی اس پر اعتراض کر دیا۔وہ اعتراض بھی کیا خوب اعتراض تھا، ہم اس کا جائزہ بعد میں لیں گے۔قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں محضر نامہ پڑھے جانے کے بعد ۲۴ / جولائی کو ایڈیشنل ناظر اعلیٰ صد را مجمن احمد یہ مکرم مرزا خورشید احمد صاحب نے قومی اسمبلی کے سیکر یٹری صاحب کے نام لکھا کہ قومی اسمبلی میں اس وقت دو موشن پیش کئے گئے ہیں جن میں سے ایک شاہ احمد نورانی صاحب کی طرف سے اور دوسری وزیر قانون عبد الحفیظ صاحب کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔اگر اس مرحلہ پر کوئی اور موشن بھی ایوان کے سامنے پیش ہوئی ہے جس میں کچھ نئے نکات ہوں تو اس کے متعلق بھی ہمیں مطلع کر دیا جائے تا کہ ہم ان کے متعلق بھی اپنا نقطہ نظر پیش کر سکیں۔اس کے جواب میں ۲۵ جولائی کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری صاحب نے لکھا کہ قومی اسمبلی کی سٹیرنگ کمیٹی نے آپ کے اس خط کا جائزہ ۲۵ جولائی کے اجلاس میں لیا اور یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو ان دوسرے Motions سے ابھی مطلع نہیں کیا جاسکتا۔اگر