سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 321 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 321

321 نے کہا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکہ کے فوری بعد قادیانیوں کے مسئلہ پر ہنگامے اور نیپ کے لیڈر خان عبدالولی خان کی بیرون ملک سرگرمیاں یہ ملک کی سالمیت کے خلاف سازش ہے اور کہا کہ حکومت قادیانیوں کے مسئلہ کو خاطر خواہ طریق پر حل کرے گی۔اس جلسہ میں ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا گیا تو بھٹو صاحب بھی اس نعرے میں شامل ہوئے۔(مشرق ۱۴ جولائی ۱۹۷۴ ص۱) بھٹو صاحب کے ان بیانات سے مندرجہ ذیل باتیں بالکل ظاہر و باہر ہیں۔بھٹو صاحب کے نزدیک جماعت احمدیہ کے خلاف یہ فسادات اور ان کے غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ ایک بین الاقوامی سازش تھی اور اس سازش کو غیر ملکی عناصر کے ایماء پر چلایا جا رہا تھا۔(۲) اس سازش سے پاکستان کی سا لمیت کو خطرہ تھا۔۳) ملک کے اندر ایک غیر محب وطن طبقہ اس سازش کی مدد کر رہا تھا۔پہلے ۲۲ مئی ۱۹۷۴ء کور بوہ کے سٹیشن کے واقعہ کو ایک سازش کے تحت کرایا گیا۔۵) جب ۲۲ مئی کو ایسے حالات پیدا نہ ہو سکے کہ ملک گیر فسادات بھڑکائے جاسکیں تو ۲۹ مئی ۱۹۷۴ ء کو اسی سازش کے تحت ملک دشمن عناصر نے دوسرا واقعہ کرایا اور اس کے نتیجہ میں ملک گیر فسادات کی آگ بھڑ کائی گئی۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ سازش کون کر رہا تھا۔یہ بات تو خلاف عقل ہے کہ جماعت احمدیہ نے خود اپنے خلاف ایسی سازش کی جس کے نتیجہ میں پورے ملک میں کئی احمدیوں کو شہید کر دیا گیا اور احمد یوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے ، انہیں بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا اور ان کے خلاف قانون سازی کی گئی۔اور یہ بات تو غیر بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ۲۲ رمئی ۱۹۷۴ء کا واقعہ تو احمد یوں نے نہیں کرایا تھا اور وزیر اعظم نے بر ملا اس بات کا اظہار کیا تھا کہ ۲۲ رمئی کا واقعہ بھی سازش کرنے والوں نے ہی کرایا تھا۔یقیناً جماعت احمدیہ کے مخالفین ہی یہ سازشیں تیار کر رہے تھے اور اس کے ذریعہ وہ ملک کو نقصان پہنچا رہے تھے۔اور سامنے نظر آنے والے جماعت مخالف عناصر تو اس بساط کے بے جان مہرے ہی تھے جنہیں کچھ اور ہاتھ حرکت دے رہے تھے اور جیسا کہ اس وقت کے ممتاز سیاستدانوں کے بیان سے ظاہر ہے کہ انہیں کچھ دے دلا کر یہ کام کرایا جا رہا تھا۔لیکن خود بھٹو