سلسلہ احمدیہ — Page 322
322 صاحب کی حکومت کیا کر رہی تھی ؟ بجائے اس کے کہ ملک کے خلاف اس سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ، وہ مفسدین کی اعانت کر رہی تھی۔قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے تھے اور ابھی سے حکومتی حلقوں کے بیانات اس بات کو صاف طور پر ظاہر کر رہے تھے کہ وہ مفسدین کے مطالبات تسلیم کر کے اس نام نہاد خدمت کا سہرا اپنے سر پر باندھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہ بات کوئی معمولی بات نہیں۔فسادات کے دوران ملک کے وزیر اعظم نے ایک سے زائد مرتبہ الزام لگایا تھا کہ ان فسادات کے پیچھے اور یہ حالات پیدا کرنے کے پیچھے کوئی بیرونی ہاتھ کام کر رہا ہے۔آخر کونسا بیرونی ہاتھ یہ کام کر رہا تھا۔ہم نے جب پروفیسر غفور صاحب سے یہ سوال کیا کہ یہ کونسا بیرونی ہاتھ ہو سکتا ہے جس نے یہ فسادات کرائے تو ہمیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ انہوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ یہ کسی بیرونی ہاتھ کی کارستانی تھی۔ان کا جواب یہ تھا: ” دیکھئے وہ ملک کے پرائم منسٹر تھے۔یہ بات اپنے علم کے بنا پر کہی ہوگی۔اگر آپ نے تقریر پڑھی تھی۔تو اس وقت جو لوگ موجود تھے ان سے پوچھ سکتے تھے کہ کونسا بیرونی ہاتھ ہے۔آج بھی کہا جاتا ہے ناں کہ کوئی بیرونی ہاتھ تھا۔حکومت کہتی ہے کہ بیرونی ہاتھ ہے۔تو ظاہر بات ہے کہ ملک کا وزیر اعظم ایک بات کر رہا تھا کہ بیرونی ہاتھ تھا۔اپنے علم کی بنا پر کہہ رہا ہو گا۔کون بیرونی ہاتھ ہے یہ وہی بتا سکتے ہیں“ یہ بڑی دلچسپ بات ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کے پوچھنے کا سوال ہے تو اس وقت احمدیوں پر تو پورے ملک میں مظالم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے تھے۔ان کے پوچھنے پر تو وزیر اعظم کا جواب دینے کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔لیکن یہ مسئلہ ایک طویل عرصہ قومی اسمبلی میں بھی زیر بحث رہا۔اور دعوی یہ کیا جاتا ہے کہ ہم نے اچھی طرح چھان بین کر کے یہ قدم اُٹھایا تھا تو حیرت کی بات ہے کہ کسی کو اسمبلی میں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ وزیر اعظم صاحب سے یا حکومت سے یہ پوچھے کہ یہ کونسا بیرونی ہاتھ ہے جس نے ملک میں یہ فسادات بر پاکئے ہیں۔اس طرح پروفیسر غفور صاحب نے اس بات کی تعیین تو نہیں کی کہ وہ کون سے بیرونی ہاتھ تھے لیکن یہ ضرور اعتراف کیا کہ بھٹو صاحب نے کسی علم کی بنا پر یہ بات کہی تھی۔اور جب ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے یہ سوال کیا کہ وہ کونسا بیرونی ہاتھ تھا، کونسا غیر ملکی ہاتھ