سلسلہ احمدیہ — Page 10
10 اپنے حالات سے مجبور ہو کر بطور قیدی کے ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں کو پوری غذا میسر نہیں اور ان کو ضرورت ہے کہ ان کی مدد کی جائے۔جس کے بغیر وہ اپنی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتے۔ان لوگوں کو ہمارے رار بندے کھانا کھلاتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہوئے ان کے دل کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ زبان حال سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں۔اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ کہ ہم خدا کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے اور اس کی عنایات کو حاصل کرنے کے لئے تمہیں کھانا کھلا رہے ہیں اور لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَلَا شُكُورًا ہم اس نیت سے تمہیں نہیں کھلا رہے کہ کبھی تم ہمیں اس کا بدلہ دو اور نہ یہ کہ تم ہماراشکر یہ ادا کر و۔ہم تم سے کچھ نہیں چاہتے نہ بدلہ چاہتے ہیں نہ ہی شکریہ کے خواہاں ہیں۔ہم محض یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا رب ہم سے خوش ہو جاۓ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبَّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں ڈر کے مارے تیوریاں چڑھی ہوئی ہوں گی۔اور لوگوں کو گھبراہٹ لاحق ہوگی۔( یہ دن قیامت کا ہے اور کبھی ایسا دن اس دنیا میں بھی آجاتا ہے) کہ کہیں ہم بھی اس دن خدا کے عذاب اور اس کے قہر کے مورد نہ بن جائیں۔اس لئے ہم یہ نیک کام بجالا رہے ہیں۔“ ( خطبات ناصر جلد اول ص ۴۶، ۴۷) یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب کسی قوم میں غرباء کی خبر گیری بالکل نہ کی جائے اور ان کے حالات کو بد سے بدتر ہونے دیا جائے اور بھوک ان کے گھروں میں ڈیرے ڈال لے اور ان کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہ ہوں تو یہ حالات اس قوم کو ایک خونی انقلاب کی طرف لے جاتے ہیں جس میں بسا اوقات متمول طبقہ کو بھیا نک انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس قوم کا سابقہ نظام ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جاتا ہے۔حضور نے اس تاریخی حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: بھوک کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی طرف جب تو میں توجہ نہیں دیتیں تو ان قوموں میں بڑے بڑے انقلاب برپا ہو جاتے ہیں۔جیسے کہ روس میں ریوولیوشن (انقلاب) اور دوسرے بہت سے ممالک میں انقلاب اسی لئے برپا ہوئے کہ وہاں اکثر