سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 9 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 9

9 مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلانے کی تحریک ۷ اردیسمبر ارد مہبر ۱۹۹۵ء کے خطبہ جمعہ پر حضرت طلیقہ اسح الثائف نے سورۃ الدھر کی بیآیات تلاوت فرمائیں: وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمُ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيْرًا فَوَقْهُمُ اللهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقُهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوْرًا ) (الدهر ۹ تا ۱۲) ترجمہ : اور وہ کھانے کو ،اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے ہمسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔ہم تمہیں محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کھلا رہے ہیں ، ہم ہرگز نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کوئی شکریہ۔اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف سے ( آنے والے ) ایک تیوری چڑھائے ہوئے سخت دن کا خوف رکھتے ہیں۔پس اللہ نے انہیں اس دن کے شر سے بچالیا اور انہیں تازگی اور لطف عطا کئے۔ان آیات کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے اس حکم کو سن کر ہمارے نیک بندے ہماری رضا کے متلاشی بندے، ہمارے قرب کے خواہاں بندے اس طرح عمل کرتے ہیں۔وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلى حُبّہ کہ وہ ہماری محبت کی خاطر اور ہماری خوشنودی کے حصول کے لئے کھانا کھلاتے ہیں کس کو ؟ مسکین کو یتیم کو اسیر کو۔عربی زبان میں مسکین کے معنی ہیں ایسا شخص جس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ بخوبی گزارا کر سکے اور اس کا گھرانہ اس روپے سے پرورش پاسکے۔اور یتیم کے معنی ہیں ایسا شخص جس کا والد یا مربی نہ ہو اور ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔اور اسیر کے لفظی معنی تو قیدی کے ہیں لیکن اس کے یہ معنی بھی کئے جاسکتے ہیں وہ شخص جو