سلسلہ احمدیہ — Page 151
151 ، پاکستان کو کمزور اور بے بس کرنے والے ہیں۔۔۔۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ ڈالا کہ اگر مغربی پاکستان میں کوئی ایک پارٹی مضبوط بن کر ابھرے گی اور اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرے گی تو مغربی پاکستان کی حکومت مستحکم ہوگی ورنہ اگر ایک پارٹی نے اکثریت حاصل نہ کی تو حکومت مستحکم نہیں ہوگی۔“(۲) اس کے بعد حضور نے اس وقت مغربی پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کا تجزیہ بیان فرمایا۔اور فرمایا کہ اس وقت مسلم لیگ تین جماعتوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ایک مسلم لیگ قیوم گروپ تھا۔اس کے سر براہ خان عبد القیوم خان بڑے مخلص اور محب وطن را ہنما تھے لیکن یہ پارٹی کمزور ہو چکی تھی اور اس کی قیادت میں بھی اختلافات پیدا ہو چکے تھے۔اور کسی سمجھ دار آدمی کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ اس پارٹی میں یہ ہمت نہیں کہ وہ پاکستان کی مضبوطی اور استحکام کا باعث بنے۔اور ایک مسلم لیگ کونسل مسلم لیگ تھی جس کے سربراہ دولتانہ صاحب تھے۔انہوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ کوئی قادیانی ہماری مسلم لیگ کا ممبر بھی نہیں بن سکتا۔حالانکہ اس وقت بھی کچھ احمدی ان کی پارٹی کے ممبر تھے اور انہوں نے اس پر احتجاج کیا تو دولتانہ صاحب نے تقریر کے اس حصے کا انکار کر دیا لیکن اس کا ریکارڈ موجود تھا جو ان کو سنا دیا گیا جس پر وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔اس پر جو احمدی کونسل مسلم لیگ کے ممبر تھے انہوں نے دولتانہ صاحب کو ایک تحریری نوٹس دیا کہ وہ سات دن کے اندر اس بیان کی تردید کریں ورنہ وہ ان کی پارٹی کو چھوڑ دیں گے۔اس نوٹس پر بہت سے غیر از جماعت دوستوں نے بھی دستخط کر دیئے۔اور دولتانہ صاحب کی پارٹی کے ایک لیڈر نے بھی جماعت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ دولتانہ صاحب سے اس بیان کے برعکس اعلان کروا دیں گے۔لیکن دولتانہ صاحب نے اپنے ساتھیوں کے مشوروں کا جواب یہ دیا کہ اپنا استعفیٰ پیش کر دیا اور ان ساتھیوں سے خوشامد میں کرا کے دوبارہ کرسی صدارت پر بیٹھ گئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۹۷۳ء کی ہنگامی مجلس مشاورت میں ممتاز دولتانہ صاحب کے متعلق فرمایا: وہ میرے بھی دوست رہے ہیں اس لئے جتنا میں ان کو جانتا ہوں اتنا شاید ہی کوئی اور جانتا ہو۔ہم بچپن کی عمر سے دوست رہے ہیں انہوں نے دوستی کا تعلق توڑ دیا لیکن ہم نے تو نہیں تو ڑا۔ان کے لئے دوستانہ خیر خواہی کا جذبہ آج بھی اسی طرح موجود ہے جس