سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 152 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 152

152 طرح پہلے تھا۔اگر وہ ناراض ہیں اور ہماری خیر خواہی نہیں چاہتے تو نہ ہی کسی سے زبر دستی تو خیر خواہی نہیں کی جاسکتی اور نہ اس کے مطلب کے کام کئے جاسکتے ہیں۔(۳) دولتانہ صاحب کا مذکورہ بالا بیان اس لیے بھی زیادہ خدشات کو جنم دے رہا تھا کہ وہ ۱۹۵۳ء میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے اور انہوں نے جماعت کے خلاف فسادات کی آگ کو عملاً ہوا دی تھی اور اس کو تاہ بینی کی وجہ سے آخر کار انہیں پنجاب کی وزارت اعلی سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔اس کا تفصیلی ذکر پہلے آچکا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی غلطیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا تھا۔حضور نے فرمایا کہ کنونشن مسلم لیگ جو کہ سابق صدر ایوب خان صاحب کی پارٹی تھی ، اس نے بھی گومگو کی کیفیت اختیار کی اس لیے جماعت نے ان کو بھی چھوڑ دیا۔پھر حضور نے مذہبی سیاسی جماعتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا: باقی کچھ علماء کی سیاسی جماعتیں تھیں مثلاً ایک جماعت اسلامی تھی۔اکثر احمدی دوستوں کو شاید یہ علم نہیں کہ یہ جماعت احمدیوں کے خلاف انتہائی شدید بغض رکھتی ہے یہاں تک کہ اگر ان کو موقع ملے تو ہماری بوٹیاں نوچنے سے بھی گریز نہ کریں مگر اس کے باوجود انہوں نے الیکشن کے دنوں میں اپنی جماعت کو یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ احمدیوں کے ساتھ پیار سے باتیں کریں ان کو ناراض نہ کریں کیونکہ اگر یہ ہمارے پیچھے پڑ گئے تو ہمیں بہت تنگ کریں گے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان کو احمدیوں سے شدید بغض اور عناد ہے اس لئے خود تو ہمارے خلاف پوشیدہ طور پر سازشوں میں مصروف رہے لیکن دوسری جماعتوں کو جو تھیں تو مذہبی لیکن بظاہر سیاسی لیبل لگا کر میدان انتخاب میں اتریں تھیں یعنی جمعیت علمائے پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام ، ان کو اکسا کر لوگوں نے ہماری مخالفت میں لگا دیا وہ ہمارے خلاف اعلانیہ بڑے بلند بانگ دعوی کرتے نہ تھکتے تھے اور کہتے تھے ہم احمد یوں کو مٹادیں گے۔پھر آخر میں جب جماعت اسلامی نے دیکھا کہ ان کی ریا کارانہ پالیسی نے جماعت احمد یہ پر کچھ بھی اثر نہیں کیا تو وہ بھی کھلم کھلا ہماری مخالفت پر اتر آئے۔اب آپ میں سے ہر دوست سمجھ سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ نے ان مخالف اور معاند پارٹیوں کو تو ووٹ نہیں دینے تھے۔(۳)