سلسلہ احمدیہ — Page 133
133 مکرم بر گیڈیئر ڈاکٹر غلام احمد صاحب بھی تھے۔آپ مجلس نصرت جہاں کے تحت افریقہ جانے والے پہلے ڈاکٹر تھے۔انہوں نے غانا کے گاؤں کو کوفو میں جا کر ڈیرہ لگایا اور یہاں پر جماعت کا ہسپتال کھولنے کے لئے انتھک محنت کا آغاز کیا۔پہلے انہیں اکرامیں ہسپتال کھولنے کے لیے بھجوایا گیا تھا مگر جب ڈاکٹر صاحب نے غانا جا کر حالات کا جائزہ لیا تو حضور کی خدمت میں تحریر کیا کہ اکرا کی بجائے کسی اور مقام پر ہسپتال کھولنا مناسب ہو گا۔انہوں نے جب ارد گرد کے علاقہ میں جائزہ لے کر رپورٹ بھجوائی تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ امیر صاحب سے مشورہ کر کے جس مناسب جگہ کا انتخاب ہو وہاں کام شروع کر دیں۔یہاں پر ہسپتال کی تعمیر کے لئے مقامی پیرا ماؤنٹ چیف صاحب نے ایک قطعہ زمین کا عطیہ دیا تھا اور عارضی طور پر ہسپتال کھولنے کے لیے ایک عمارت بھی مہیا کی تھی۔ابتدائی انتظامات مکمل ہونے پر یکم نومبر ۱۹۷۰ء کو اس ہسپتال کا افتتاح کیا گیا۔تقریب میں تین پیرا ماؤنٹ چیف صاحبان ، اعلیٰ سرکاری افسران اور دیگر اہم شخصیات کے علاوہ تقریباً تین ہزار افراد نے شرکت کی۔جلد ہی دور دور سے مریض اس ہسپتال میں علاج کرانے کے لئے آنے لگے۔اس سکیم کے آغاز میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث "خود ڈاکٹروں کی راہنمائی فرماتے تھے۔اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر اخراجات پر قابو نہ پایا جائے تو رفاہ عامہ کے کسی کام کو چلانا مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔چنانچہ ابتدائی دور میں کو کوفو سے آنے والی ایک رپورٹ پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ اخراجات زیادہ ہور ہے ہیں۔جبکہ اسقدر زیادہ اخراجات نہ کرنے کی صورت میں بھی کام چل سکتا ہے۔اس لیے اس معاملہ میں احتیاط برتیں اور حتی المقدور کفایت وقناعت سے کام کرنے کی کوشش کریں۔غانا میں جماعت کا دوسرا ہسپتال آسوکورے کے مقام پر بنایا گیا۔یہ گاؤں غانا کے اشانٹی ریجن میں واقع ہے۔یہاں پر ہسپتال قائم کرنے کی سعادت مکرم ڈاکٹر سید غلام مجتبی صاحب کے حصہ میں آئی۔ہسپتال کے لیے ایک نئی تیار شدہ عمارت دو سال کے لیے جماعت کو مفت فراہم کی گئی۔اس عمارت میں ہسپتال کا آؤٹ ڈور اور وارڈ اور آپریشن تھیٹر قائم کیے گئے۔اس سے قبل اس گاؤں میں ایک بڑی جماعت قائم تھی اور سکینڈری سکول بھی موجود تھا۔۱۹۷۱ء میں ہی جب اس ہسپتال کا افتتاح ہوا اور مختلف جماعتوں سے احباب اس میں شرکت کے لیے آئے ، اعلیٰ سرکاری حکام اور ممبرانِ پارلیمنٹ بھی تقریب میں شامل ہوئے۔اس موقع پر ریڈیو اور اخبارات کے نمائندے بھی شامل