سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 101 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 101

101 اگلے روز حضور کماسی سے واپس اکر ا تشریف لے آئے۔روانگی سے قبل حضور نے کماسی کے کلچرل سینٹ کا معائنہ فرمایا اور راستے میں مسجد نیر تشریف لے گئے اور یہاں لمبی دعا کروائی۔۲۴ را پریل کو حضرت خلیفتہ اسیح الثالث اکرا سے سالٹ پانڈ کے لئے روانہ ہوئے۔سالٹ پانڈ ا کرا سے تقریباً ۷۵ میل کے فاصلے پر ہے۔اس شہر کو جماعت کی تاریخ میں یہ اہمیت حاصل ہے کہ غانا میں احمدیت کے سب سے پہلے مبلغ حضرت مولا نا عبدالرحیم نیر صاحب ۱۹۲۱ء میں سالٹ پانڈ میں ہی وارد ہوئے تھے اور اس شہر سے ہی انہوں نے غانا میں احمدیت کی تبلیغ کا آغاز کیا تھا۔اس وقت سے اسی شہر میں جماعت احمد یہ غانا کا مرکزی مشن قائم تھا۔حضرت مولا نا عبدالرحیم نیر صاحب نے جس چھوٹے سے شہر میں مقیم رہ کر تبلیغ کا آغاز کیا تھا اب وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک مشن ہاؤس اور جامع مسجد تیر ہو چکی تھی اور ایک نہایت مضبوط اور فعال جماعت قائم تھی۔جب ۲۴ اپریل کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث سالٹ پانڈ پہنچے تو تقریبا بارہ ہزار احمدیوں نے اهلا و سهلا و مرحبا کہہ کر حضور کا استقبال کیا۔احمدی بہنیں سفید رومال ہلاتی ہوئیں اور اللہ اکبر اللہ اکبر کہتی ہو ئیں سخت دھوپ میں حضور کی کار کے ساتھ دوڑتی چلی جارہی تھیں۔احمدی احباب کے علاوہ پیرا ماؤنٹ چیف صاحبان ، چرچ کے نمائندگان اور دیگر معززین شہر بھی استقبال میں شامل تھے۔تقریباً ساڑھے گیارہ بجے قافلہ مشن ہاؤس پہنچا۔ساتھ ہی سفید گنبدوں والی مسجد نظر آ رہی تھی جسے مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر نے تعمیر کرایا تھا اور یہاں سے وہ مکان بھی نظر آ رہا تھا جہاں سے ابتدا میں مکرم مولا نا عبد الرحیم نیر صاحب نے غانا میں دعوت الی اللہ کا آغاز کیا تھا۔مکان کیا تھا ایک شیڈ سا تھا جس کی عمارت خستہ ہو چکی تھی اور اس پرٹین کی زنگ آلود چھت تھی۔یہ منظر ابتدائی مبلغین کی قربانیوں کی یاد دلا رہا تھا۔مشن ہاؤس کے ساتھ ہی مشنری ٹریننگ کالج بھی موجود تھا۔اس وقت مکرم عبد الحکیم جوزا صاحب اس کے پرنسپل کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔جب نماز جمعہ کا وقت ہوا تو حضور اقدس بمعہ حضرت بیگم صاحبہ ساحل کے قریب اس میدان میں تشریف لے گئے جہاں پر جماعت کے جلسے منعقد ہوتے ہیں۔یہاں پر حضور کی آمد پر ایک استقبالیہ کا انعقاد کیا گیا تھا۔غانا کی جماعت کے نیشنل پریذیڈنٹ صاحب نے حضور کی آمد پر استقبالیہ تقریر کی۔اس کے بعد نماز جمعہ کا وقت ہوا تو حضور نے انگریزی زبان میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا ، جس کا ترجمہ مکرم عبدالوہاب