سلسلہ احمدیہ — Page 71
71 جو ملی تقریبات ۲۸ سمبر کا دن جو بلی کی تقریبات کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔مختلف جماعتیں سادہ اسلامی طرز کے جلوسوں کی صورت میں اپنی قیام گاہوں سے جلسہ گاہ کے لیے صبح 9 بجے روانہ ہوئیں۔ہر جماعت کے جلوس کے آگے ایک بینر تھا جس پر حضرت مسیح موعود کا ایک شعر اور جماعت کا نام لکھا ہوا تھا۔قادیان کی فضا حمد کے ترانوں سے گونج اٹھی۔ایک گھنٹے کے اندر اندر جلسہ گاہ کھچا کھچ بھر گئی۔حضور کی آمد پر سات مرتبہ اھلاً و سھلاً و مرحبا کے نعرے بلند کیے گئے۔(۱۲) تلاوت اور نظم کے بعد مختلف جماعتوں کی طرف سے سپاس نامے پیش ہوئے۔سب سے پہلے صدر انجمن احمد یہ کی طرف سے ناظر اعلیٰ حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب نے سپاس نامہ پیش کیا۔ان کے بعد حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے جماعت ہندوستان کی جانب سے اور پھر ہندوستان کی مختلف جماعتوں کے سپاس نامے پیش ہوئے۔آخر پر بلاد عربیہ ہمشرقی افریقہ، سنگا پور اور ملایا اور جزائر شرق الہند کے نمائیندوں نے اپنی اپنی زبانوں میں اظہار عقیدت کیا۔برطانیہ کے احمدیوں کی طرف سے ایک انگریز نومسلم خاتوں سلیمہ بینک صاحبہ اور لجنہ کی جانب سے سیدہ حضرت ام طاہر صاحبہ ایک روز قبل خواتین کے جلسے میں ایڈریس پیش کر چکی تھیں۔ایڈریسوں کے اختتام پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جماعت احمدیہ عالمگیر کی طرف سے حضور کو ایک حقیر رقم کا نذرانہ پیش کیا۔حضرت مصلح موعود نے اسے قبول کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اسے استحکامِ جماعت، جماعت کی تعلیمی ترقی اور تبلیغ کے لیے خرچ کیا جائے گا۔اس کے بعد پروگرام کا وہ حصہ شروع ہوا جو تاریخ احمدیت میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ، پہلی مرتبہ لوائے احمدیت بلند کرنے کے لیے سٹیج سے اتر کر شمال مشرق میں ایک چبوترے پر تشریف لائے۔دنیا کی تاریخ میں کتنے ہی جھنڈے لہرائے گئے ہیں۔اکثر کی تو یادیں بھی محو ہو چکی ہیں۔۱۹۳۹ء میں سلطنت برطانیہ کا جھنڈا ایسا تھا جس کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ اس پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔لیکن اب اس کی یہ کیفیت نہیں رہی۔اکثر جھنڈوں کو بینڈ اور بنگل کے شور میں یا سلامی کی توپوں کی گھن گرج میں بلند کیا جاتا تھا تا کہ اپنی شان وشوکت کا