سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 59 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 59

59 خارجہ سے رابطہ رکھے ہوئے تھے۔اور جرمنی نے اس وقت ہی بار بار سوویت حکومت پر واضح کیا تھا کہ پولینڈ کے معاملے میں سوویت یونین سے مفاہمت ہوسکتی ہے۔پولینڈ پر حملہ کرنے کے بعد بھی جرمن حکومت سوویت حکومت سے مسلسل رابطہ رکھے ہوئے تھی۔اور انہیں پولینڈ کی فوج کی صورتِ حال کے متعلق اطلاعات بہم پہنچارہی تھی اور سوویت حکومت جرمنی کو اپنی عسکری تیاریوں اور پولینڈ پر حملے کے منصوبے کے متعلق باقاعدگی سے اطلاعات دے رہی تھی۔چنانچہ جیسا کہ حضور نے تحریر فرمایا تھا روس نے یہ قدم جرمنی کے تسلط کو روکنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ یہ حملہ جرمنی سے معاہدے کے نتیجے میں ہوا تھا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی پیدائش سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خوش خبری دے دی تھی کہ وہ موعود بیٹا سخت ذکی اور فہیم ہو گا۔اور حضور کی یہ غیر معمولی ذہانت دینی امور میں ہی نہیں بلکہ ان دنیاوی امور میں بھی ظاہر ہو کر نشان بنتی رہی جن کا تجزیہ کرتے ہوئے چوٹی کے ذہن بھی عاجز رہ جاتے تھے۔تاکہ محض دنیاوی ذہن رکھنے والوں پر بھی اتمام حجت ہو جائے۔اس طرح دوسری جنگِ عظیم کا آغاز ہوا۔ایک ایسی آفت نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کا اثر ہر بر اعظم تک پہنچا۔قریباً چھ سال تک اس کے شعلے بھڑکتے رہے اور کروڑوں آدمی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔جب پوری دنیا اس کے اثر سے تہ و بالا ہورہی تھی تو جماعت کی تبلیغی مساعی بھی متاثر ہوئی۔نا مساعد حالات کے باعث مبلغین کی تبلیغی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور بہت سے مبلغین کو اپنے ممالک چھوڑنے پڑے۔لیکن تمام مشکلات کے باوجود تبلیغ اسلام کا جہاد جاری تھا اور اس پس منظر میں جماعت کی تاریخ کے پچاس سال مکمل ہو رہے تھے اور جماعت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی تھی۔جہاں دنیا میں ہر طرف نفرتوں کے طوفان اٹھ رہے تھے وہاں جماعتی روایات میں ایک نیا خوبصورت اضافہ ہو رہا تھا۔اس روایت کے ذریعہ نفرتوں کے اس دور میں دنیا کو محبتوں اور صلح و آشتی کا پیغام دیا جارہا تھا۔یہ نئی روایت جلسہ یوم پیشوایان مذاہب کا آغاز تھا۔(۱) بنی اسرائیل (۱۶ (۲) روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۹۵ (۳) رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ص ۱۲۵ تا ۱۲۹ (۴) الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ ء ص ۴