سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 672 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 672

672 با قاعدہ اجلاسات شروع ہوئے۔۱۹۵۴ء میں ماریشس میں احمدیوں کی کل تعداد ۹۹۵ تھی۔(۷) مختلف جماعتوں میں بچوں کو ابتدائی دینی تعلیم دینے کا انتظام پہلے سے موجود تھا مگر اس کو با قاعدہ کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے۔روز بل میں سکول کے اوقات سے قبل دینی تعلیم دینے کا انتظام کیا گیا اور اس کے لئے مختلف اساتذہ مقرر کئے گئے۔اور اس کلاس میں بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔بڑی عمر کے احباب کے لئے تعلیم اور درس کا انتظام کیا گیا۔(۸) فروری ۱۹۵۵ء میں مکرم فضل الہی بشیر صاحب فریضہ تبلیغ کی ادائیگی کے لئے ماریشس تشریف لے گئے۔آپ کو وہاں پر ۱۹۶۱ء تک خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔۱۹۵۷ء میں ماریشس میں بہائیوں کی سرگرمیاں کافی زور سے جاری تھیں اور بہت سے مسلمان ان سے متاثر ہو رہے تھے۔احمدیوں نے دلائل سے ان کا مقابلہ شروع کیا اور بہائی ان دلائل کے آگے لا جواب ہو گئے۔مولانا فضل الہی بشیر صاحب نے بہائیت کے رد میں دوٹریکٹ شائع کئے۔(۹) ۱۹۵۹ء میں فنکس کے مقام پر ایک نئی مسجد مکمل ہوئی۔(۹)۱۹۶۱ء میں مکرم محمد اسماعیل منیر صاحب کو ماریشس میں مبلغ مقرر کیا گیا۔آپ نے بڑی تندہی کے ساتھ کام کا آغاز کیا۔۱۹۶۱ء میں جماعت احمد یہ ماریشس کا ایک جریده Le Message کے نام سے فریج زبان میں شائع ہونا شروع ہوا۔عیدالاضحی کے موقع پر اس کا پہلا نمبر نکلا۔خدام کے رسالے البشری کو بھی اس میں ضم کر دیا گیا۔اس کے علاوہ بہت سی کتب کے فریج تراجم کی تیاری شروع کی گئی۔(۱۰۔۱۱) مکرم اسماعیل منیر صاحب نے ریڈیو پر متعدد تقاریر کے ذریعہ اسلام کا پیغام اہلِ ماریشس تک پہنچایا۔اور ۱۹۶۱ء میں ہی انصار اللہ نے پبلک جلسوں کے ذریعہ اپنی مساعی کا دائرہ وسیع تر کیا۔۱۹۶۲ء میں روز ہل کے مقام پر جماعت کے ایک سکینڈری سکول کا آغاز کیا گیا ، جس کا نام فضل عمر کالج رکھا گیا۔اس وقت تک جماعت کی دینی تعلیم کے لئے ماریشس میں چھ مکاتیب قائم تھے اور جماعت احمد یہ ماریشس چھ مساجد تعمیر کر چکی تھی۔(۱۲) (۱) الفضل ۱۷ اکتو بر ۱۹۵۲ء ص ۵ (۲) الفضل ۵ جنوری ۱۹۴۰ ء ص ۸