سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 668 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 668

سپین 668 سپین میں جماعت کے مشن کے احیاء کا ذکر گذر چکا ہے۔یہ وہ دور تھا جب سپین میں صرف کیتھولک چرچ کو تبلیغ کی اجازت تھی۔دوسرے مذاہب تو ایک طرف رہے دوسرے عیسائی فرقوں کو بھی وہاں تبلیغ کی اجازت نہیں تھی۔اس صورت حال میں جماعت کے مبلغ جناب کرم الہی اظفر صاحب وہاں جا کر رہنے تو لگ گئے لیکن کھلم کھلا تبلیغ کرنا ان کے لئے ممکن نہ تھا۔یہ مشن ابھی ابتدائی حالت میں ہی تھا کہ قادیان سے ہجرت کرنی پڑی تقسیم ملک کے بعد جماعت کو مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا۔یہ فیصلہ کیا گیا کہ یورپ کے بعض مشن بند کر دیے جائیں۔چنانچہ مکرم کرم الہی ظفر صاحب کو مرکز کی طرف سے حکم ملا کہ چین سے لندن چلے جائیں۔دعاؤں اور سوچ بچار کے بعد مکرم کرم الہی ظفر صاحب نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ مشن کو بند نہ کیا جائے۔جماعت خرچہ بھجوائے یا نہ بھجوائے میں اپنی آمد خود پیدا کرلوں گا۔آپ نے سپین آنے سے قبل لندن میں قیام کے دوران عطر سازی کا کام سیکھا تھا۔چنانچہ آپ نے پھیری لگا کر عطر بیچنے کا کام شروع کیا اور اس کے ساتھ تبلیغ کا کام بھی جاری رکھا۔اور چند سعید روحوں نے اسلام قبول کر لیا۔با وجود کاروباری معاملات میں ان کی ناتجربہ کاری کے اللہ تعالیٰ نے ان کے کام میں ایسی برکت ڈالی کہ پہلے ہی سال انہوں نے اپنا خرچہ اٹھانے کے علاوہ اتنی رقم جمع کر لی کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی کتاب اسلام کا اقتصادی نظام کا سپینش میں ترجمہ کر کے اسے شائع کروایا۔(۱) یہ کتاب شائع تو ہوگئی لیکن حکومت نے اسے تقسیم یا فروخت کرنی کی اجازت نہ دی۔اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا گیا۔آخر کار اللہ تعالیٰ نے یہ راستہ نکالا کہ ڈائریکٹر جنرل پریس نے سنسر شپ پریس سے یہ منوالیا کہ یہ کتاب کمیونزم کے خلاف ہے اور ملک کو کمیونزم سے خطرہ ہے لہذا اسکی اشاعت کی اجازت دی جائے۔سپین میں عیسائیت کے علاوہ کسی مذہب کو تبلیغ کی جازت نہیں تھی۔سنسر والے تذبذب میں تھے۔آخر انہوں نے کہا کہ کتاب میں جہاں لکھا ہے کہ مذہب اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے۔وہاں یہ تبدیلی کر دی جائے کہ اس کی جگہ لکھا جائے مذہب اسلام جو میرے نزدیک صرف ایک سچا مذہب ہے۔حضور نے اس تبدیلی کی اجازت مرحمت فرما دی۔یہ کتاب با اثر لوگوں کو بھی بھجوائی گئی اور