سلسلہ احمدیہ — Page 663
جرمنی 663 جرمنی میں مشن پہلی مرتبہ ۱۹۲۲ء میں قائم ہوا تھا اور وہاں پر مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ بھی جمع کیا گیا تھا۔لیکن اقتصادی بحران اور کرنسی کی قیمت گرنے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ۱۹۲۴ء میں یہ مشن بند کر دیا گیا۔دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر بیرونِ ہندوستان مبلغین بھجوانے کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہوا۔جرمنی میں بھی مشن کھولنے کا منصوبہ تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس غرض کے لئے تین مبلغین کا انتخاب فرمایا۔یہ تین مبلغین مکرم چوہدری عبد الطیف صاحب ، مکرم شیخ ناصر احمد صاحب اور مکرم مولوی غلام احمد بشیر صاحب تھے۔یہ تینوں اصحاب پہلے لندن پہنچے جہاں انہوں نے مکرم مولانا جلال الدین شمس صاحب کے پاس رہ کر میدانِ عمل میں تبلیغ کی ٹریننگ حاصل کرنی تھی۔ان کے علاوہ یورپ کے لئے باقی مبلغین بھی ۱۹۴۶ء میں لندن پہنچ چکے تھے۔جلد ہی یورپ کے کئی ممالک میں جماعت کے مشن قائم ہو گئے مگر دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ پر جرمنی فاتح افواج کے قبضے میں تھا۔وہاں ہمارے مبلغین کو داخلے کی جازت نہ مل سکی۔جن مبلغین کا تقرر جرمنی کے لئے ہوا تھا وہ سویٹزرلینڈ چلے گئے تاکہ وہاں سے ویزے کے حصول کے لئے کوشش کر سکیں لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔حکام کی طرف سے یہی جواب ملتا کہ وہاں پر رہائش کا انتظام نہیں کیا جا سکتا۔اس کے برعکس عیسائی مشنری جنگ ختم ہوتے ہی جرمنی پہنچ چکے تھے۔جماعت کے مبلغین تو جرمنی نہ پہنچ سکے لیکن اللہ تعالیٰ نے وہاں پر احمدیت کا پودا لگانے کے انتظامات کر دیئے۔۱۹۴۷ء میں ایک جرمن مکرم عبداللہ کہنے صاحب کو جنگ کے دوران ایک احمدی کی معرفت جماعت سے تعارف ہوا اور حضور کے بعض خطبات پڑھنے سے ان کی طبیعت پر گہرا اثر ہوا۔انہوں نے احمدیت قبول کر کے کچھ اور احباب کو تبلیغ شروع کی اور اس طرح پانچ افراد پر مشتمل ایک چھوٹی سی جماعت وجود میں آگئی۔مکرم عبد اللہ کہنے (Kuhne) صاحب نے اب مبلغین کے داخلے کے لئے کوششیں شروع کیں۔ان کاوشوں کے نتیجے میں جماعت کے مبلغین کو عارضی ویزامل گیا۔سب سے پہلے جون ۱۹۴۸ء میں مکرم شیخ ناصر احمد صاحب دورے کے لئے سویٹزرلینڈ سے جرمنی پہنچے۔آپ کے دورہ کے دوران