سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 657 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 657

657 آپ کو خیر مقدم کہنے کے لئے ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں از راہِ شفقت حضور بھی شامل ہوئے۔اس سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا 'بے شک وہ مقصد جس کے لئے آپ کھڑے ہوئے ہیں بہت عظیم الشان ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تمہیں تمہارے ملک کے لوگ بھی نہیں جانتے ، چہ جائیکہ دوسری دنیا۔لیکن وہ وقت آئے گا کہ جب خدائے واحد کا نام دنیا پر قائم ہو چکا ہو گا۔اور ہر طرف احمدیت ہی احمدیت ہو گی تو اس وقت تمہارے ملک کے لوگ تاریخ کی کتابوں کی چھان بین کریں گے اور وہ تلاش کرنے لگیں گے کہ کیا ابتدائی دور میں کوئی انگریز احمدی ہوا تھا۔جب وہ دیکھیں گے کہ ہاں ایک شخص مسٹر بشیر احمد آرچرڈ تھا جس نے ابتداء میں احمدیت کو قبول کیا اور غیر معمولی قربانیاں کیں۔یہ دیکھ کر ان کے دل خوشی سے بھر جائیں گے۔(۱۱۔۱۲) جون ۱۹۴۷ء میں جماعت احمدیہ کی طرف قرآنِ کریم کے ترجمے کا پہلا حصہ جو سورۃ فاتحہ تا سورۃ کہف پر مشتمل تھا شائع ہوا۔اس کی اشاعت کے ساتھ انگریزی بولنے والے طبقے میں تبلیغ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔نومبر ۱۹۴۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرزند حضرت مرزا شریف احمد صاحب پاکستان سے لندن تشریف لائے اور آپ نے تقریباً پانچ ماہ انگلستان میں قیام کیا۔آپ کی واپسی پر آپ کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں ایک ممبر پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔اس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے لندن مشن کی مختصر تاریخ بیان فرمائی اور فرمایا کہ ان غلط فہمیوں کو دور کرنی کی ضرورت ہے جو ایک دوسرے کے درمیان موجود ہیں اور جن کی وجہ سے مشرقی اور مغربی اقوام کے درمیان نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔تا کہ انہیں معلوم ہو کہ ہم اکھٹے برادرانہ طور پر رہ سکتے ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم مغربی اقوام کے لوگوں کے اطوار و عادات اور رحجانات کا مطالعہ کریں اور ان کی مشکلات کو سمجھیں جس کی وجہ سے وہ اسلام قبول کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔اگر مغربی لوگ مشرقی لوگوں کو اور مشرقی لوگ مغربی لوگوں کو سمجھ لیں تو ہمارا مستقبل شاندار ہے۔صاحب صدر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جن امور کی