سلسلہ احمدیہ — Page 637
637 مشرقی افریقہ کتاب کے حصہ دوئم کے آغاز پر ہم مشرقی افریقہ میں جماعت کے مشن کے آغاز کا ذکر کر چکے ہیں۔اور سواحیلی میں قرآن کریم کے ترجمہ کا ذکر بھی کیا جا چکا ہے۔اب ہم مختصراً یہ جائزہ لیں گے کہ ۱۹۴۰ء اور ۱۹۶۱ء کے درمیان وہاں کی جماعت کن مراحل سے گذری اور رفتہ رفتہ اس کی مساعی کا دائرہ کس طرح وسیع ہورہا تھا۔ابتداء ہی سے ٹانگانیکا کے علاقے میں ٹبورہ کا شہر جماعتی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔یہاں پر مقامی احباب کی ایک مخلص جماعت قائم تھی۔۱۹۴۰ء میں جماعت نے یہاں پر مسجد بنانے کا فیصلہ کیا۔اس کے لئے جماعت نے قطعہ زمین پہلے ہی خرید رکھا تھا۔مخالفین یوں تو پہلے ہی ہر وقت شرارتوں پر آمادہ رہتے تھے۔اس موقع پر مخالفت کی آگ بھڑک اُٹھنا ایک قدرتی بات تھی۔وہ فوراً حکام کے پاس پہنچے اور اپنا آزمودہ نسخہ آزماتے ہوئے انہیں کہا کہ اگر یہاں پر احمد یوں کو مسجد بنانے کی اجازت دی گئی تو اس سے فساد ہو جائے گا۔حکام نے یہ معقول جواب دیا کہ حکومت کے پاس ایسا کوئی قانون نہیں کہ وہ احمدیوں کو مسجد بنانے سے روکے اور جہاں تک فساد کا تعلق ہے تو اسے حکومت دیکھ لے گی۔مگر مخالفین سلسلہ کوششیں کرتے رہے کہ احمدی اپنی مسجد نہ بنا سکیں۔آخر کار یکم فروری ۱۹۴۱ء کو احمدیوں نے زمین پر نشان لگانے سے کام شروع کیا۔اس وقت مخالفین کے ایک نمائیندے نے آکر احمدیوں کو دھمکی دی کہ اگر تم لوگ باز نہ آئے تو مسلمان تم سے لڑیں گے اور جہاد ہو جائے گا۔اگلے روز احمدیوں نے خود کام کرتے ہوئے مسجد کی بنیادیں کھودنی شروع کیں۔پہلے سے اطلاع مل چکی تھی کہ شریر لوگ فساد کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔پولیس کو بھی مطلع کر دیا گیا تھا۔مخالفین کا ایک گروہ آیا مگر احمدی مرد، عورتیں اور بچے اپنے کام میں لگے رہے اور یہ گروہ خاموشی سے چلا گیا۔دوپہر کو جب مبلغ سلسلہ شیخ مبارک صاحب ایک احمدی کے دوکان پر بیٹھے تھے تو بلوائیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔انہوں نے اور ان کے ساتھ دوسرے احمدیوں نے ایک مکان میں پناہ لی۔وہاں سے وہ شیخ صاحب کے گھر گئے اور وہاں کچھ دیر شور مچاتے رہے۔اور بعض دوسرے احمدیوں کے گھروں پر حملے شروع ہو گئے۔شہر میں دہشت کی فضا چھا گئی تھی۔پولیس حرکت میں آئی اور دو دن میں پچاس کے قریب بلوائی گرفتار کر لئے جن میں سے تمیں کو سزا ہوئی۔معاملہ