سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 626 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 626

626 جلسہ سالانہ میں شرکت کا رحجان بڑھ رہا تھا تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس کی برکت سے فیضیاب ہو سکیں۔۱۹۵۷ء میں جب سالٹ پانڈ کے مقام پر جلسہ سالانہ ہوا تو اس میں پانچ ہزار افراد نے شرکت کی۔(۱۷) ۱۹۵۷ء میں جب گولڈ کوسٹ آزاد ہو کر دنیا کے نقشے پر غانا کی حیثیت سے نمودار ہوا تو حضرت خليفة امسیح الثانی نے ملک کے وزیر اعظم کے نام مبارک باد کا پیغام بھجوایا۔اس میں آپ نے تحریر فرمایا میں اپنی اور جماعت احمدیہ کی طرف سے جو تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہے آپ کو اور آپ کے ملک کے عوام کو حصول آزادی کی تقریب پر مبارکباد دیتا ہوں اور آپ کے ملک کی مسلسل اور ہر آن بڑھنے والی خوشحالی اور ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں۔(۱۸) جیسا کہ پہلے یہ ذکر آچکا ہے کہ مسلمان طلباء جب عیسائی سکولوں میں داخل ہوتے تو نہ صرف ان کے عیسائی نام رکھے جاتے بلکہ ان کو عیسائیت کی تعلیم بھی دی جاتی۔مکرم نذیر مبشر صاحب نے ایک میٹنگ میں ملک کے وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔وزارت تعلیم نے شواہد پیش کرنے کو کہا۔جب مشن کی طرف سے یہ شواہد پیش کئے گئے تو ۱۰ مارچ ۱۹۶۱ء کو حکومت نے یہ سرکلر جاری کیا کہ اب مسلمان طلباء کو زبردستی عیسائیت کی تعلیم نہ دی جائے اور جہاں پر اساتذہ موجود ہوں وہاں پر انہیں اسلامیات پڑھائی جائے۔(۱۹) جوں جوں جماعت کی ترقی ہو رہی تھی یہاں پر جماعت کی مساجد کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا تھا۔۱۸ستمبر ۱۹۵۹ء کو مرکز رپورٹ بھجوائی گئی کہ غانا میں جماعت کی چھوٹی بڑی مساجد کی تعداد ۱۶۵ ہو چکی ہے۔(۲۰) مولانا نذیر احمد صاحب مبشر کی غانا میں خدمات کا عرصہ پچیس سال کے طویل عرصہ پر پھیلا ہوا تھا۔اس بار آپ دو مرتبہ رخصت پر مرکز گئے۔۱۹۶۱ء میں آپ کو مستقل واپسی کی اجازت ملی اور مکرم عطاء اللہ کلیم صاحب کو چارج دے کر لندن کے راستے ۳۰ اکتوبر ۱۹۶ء کور بوہ پہنچے۔(۲۱) جنوری ۱۹۵۵ء میں جماعت گولڈ کوسٹ کی طرف سے ایک اخبارسن رائز جاری کیا گیا تھا مگر