سلسلہ احمدیہ — Page 613
613 حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایت تھی کہ ہر ملک کے مبلغین سال میں ایک دو مرتبہ ضرور جمع ہو کر مجلس شوری منعقد کیا کریں۔جس میں نئے پیش آمدہ حالات اور مشکلات کا حل اور نئی تبلیغی جد و جہد کا پروگرام تجویز کیا کریں۔حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں سیرالیون کے احمد یہ مشن کے مرکز بو میں ۳ مئی ۱۹۴۶ء کو سیرالیون کے مبلغین کی ایک کانفرنس ہوئی۔اس کی صدارت مکرم مولا نا محمد صدیق امرتسری صاحب امیر ومشنری انچارج سیرالیون نے کی اور غور و خوص کے بعد اہم فیصلے کئے گئے۔(۱۷) تمام تر نا مساعد حالات کے باوجود سیرالیون کے مبلغ اتنی جانفشانی سے کام کر رہے تھے کہ یہ چھوٹا سا ملک دنیا بھر کے احمدیوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔چنانچہ ۱۹۴۵ء کے آخر اور ۱۹۴۶ء کے شروع میں مرکز نے تین مزید مبلغین سیرالیون کے لئے روانہ کئے۔یہ مبلغین مولوی نذیر احمد صاحب رائے ونڈی، مکرم صوفی الحق صاحب اور مولوی عبدالحق صاحب جنگلی تھے۔مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی بھی ۲۶ فروری ۱۹۴۶ء کو سیرالیون پہنچے مگر آپ کے سپر د مغربی افریقہ کے تمام ممالک کی نگرانی تھی اس لئے آپ چند ماہ قیام کے بعد یہاں سے چلے گئے۔اور پھر اکتو بر ۱۹۴۶ء میں مکرم مولا نا بشارت احمد صاحب بشیر بھی سیرالیون پہنچ گئے۔اس طرح یہاں پر مرکزی مبلغین کی تعداد ۵ ہوگئی۔(۱۸) سیرالیون میں مختلف مقامات پر اب تک جماعت کی متعدد مساجد تعمیر ہو چکی تھیں مگر اب تک سیرالیون کے صدر مقام اور سب سے بڑے شہر میں جماعت کی کوئی مسجد نہیں بنی تھی ، اور نہ ہی اس کے لئے کوئی مناسب قطعہ اراضی حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی تھی۔اس غرض کے لئے مکرم مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب نے حضور انور کی خدمت میں درخواست کی اور حضور نے از راہ شفقت اس کیلئے پانچ سو پانڈ کی رقم منظور فرمائی اور فروری ۱۹۴۷ء میں اس سے شہر کے وسط میں گوری سٹریٹ میں ایک قطعہ زمین خریدا گیا اور یہاں پر مسجد تعمیر کی گئی۔(۱۹) سیرالیون کے بہت سے علاقوں میں چیف اور دیگر امیر حضرات بہت زیادہ تعداد میں بیویاں رکھتے تھے۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے بعض کی تو سوسو بیویاں بھی تھیں۔ان کی ازدواجی زندگی کو بھی اسلام کے مطابق ڈھالنا ضروری تھا۔ایک رپورٹ میں اس کا ذکر کیا گیا تو حضرت مصلح موعودؓ نے