سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 552 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 552

552 اور مکرم سید زین العابدین شاہ صاحب شامل تھے۔حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب نے ان طلباء کو طب کے کچھ نسخے سکھائے اور حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے ہومیو پیتھی کے متعلق ابتدائی تعلیم دی (۲)۔۱۹۵۸ء میں فروری مارچ تک چھ معلمین کو میدانِ عمل میں بھجوادیا گیا تھا (۵)۔جب کام شروع ہوا تو اس تنظیم کی کاوشوں سے کئی احباب بیعت کر کے جماعت میں داخل ہوئے۔پاکستان کے دیہات میں تبلیغ و تربیت کے علاوہ ملک میں غیر مسلموں میں تبلیغ بھی وقف جدید کی کاوشوں کا مرکز تھی۔ابتداء میں کچھ احباب نے سندھ میں کچھ زمین اس تحریک کے ماتحت وقف بھی کی لیکن مرکزی دفتر میں عملہ کی کمی بلکہ نایابی کے باعث چندوں میں حسب ضرورت اضافہ نہ ہو سکا جس کے باعث ۱۹۶۰ء میں پیش کیا جانے والا بجٹ بھی خسارہ کا بجٹ تھا۔اور اخراجات آمد سے زیادہ تھے۔اب تک عملاً وقف جدید کے مرکزی دفتر میں سارا کام یکجا ہو رہا تھا، اس صورتِ حال کے پیش نظر مجلس نے یہ فیصلہ کیا کہ دفتر کے کام کو مختلف نظامتوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ملک کے مختلف حصوں میں انسپکٹروں سے نیچے محصلین مقرر کئے جائیں جو اپنے اپنے حلقوں میں بروقت وعدے حاصل کرنے اور ان کی وصولی کے ذمہ دار ہوں گے۔صدر انجمن احمد یہ میں حصہ آمد کا چندہ ادا کرنے والے صرف وہ افراد ہوتے ہیں جو خود کوئی ذریعہ آمد رکھتے ہیں جب کہ وقف جدید کا چندہ ان کے گھروں کے دیگر افراد بھی ادا کر سکتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ صدر انجمن احمدیہ کے ہر چندہ دہند کے مقابل پر وقف جدید کے چھ چندہ دہند ہونے چاہئیں۔اس پہلو سے صورت حال کافی قابل توجہ تھی۔جب یہ اعلان کیا گیا تو صدرانجمن احمدیہ کے انیس ہزار چندہ دہندگان موجود تھے اور وقف جدید کے پہلے سال میں صرف چھ ہزار افراد نے اس تحریک میں چندہ دیا۔۶۳ ۶۴ کے مالی سال میں یہ تعداد بڑھ کر انیس ہزار ہو گئی۔اور ۱۹۶۴ء کی مجلس شوری میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے کا بجٹ رکھا گیا لیکن چندہ کی وصولی اس ہدف سے اکیاون ہزار روپے کم رہی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خواہش تھی کہ وقف جدید کے معلمین کی تعدادکوسو تک پہنچایا جائے لیکن مالی وسائل کی کمی کے باعث ۱۹۶۵ء تک اس خواہش کے پوارا ہونے کے سامان پیدا نہ ہو سکے۔لیکن ان مسائل کے باوجود یہ تنظیم رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہی تھی اور اس کے نیک ثمرات بھی ظاہر ہورہے تھے۔اس طرح نظام جماعت کی اس نئی تنظیم نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔