سلسلہ احمدیہ — Page 548
548 وقف جدید کا آغاز وقت کے ساتھ جوں جوں جماعت پھیلتی جارہی تھی ، جماعت کی تربیت کے اور احمدیت کی تبلیغ کوسب تک پہنچانے کے نئے نئے تقاضے بھی سامنے آ رہے تھے۔جماعت کے مربیان کی موجود تعداد تنہا تبلیغ اور تربیت کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتی تھی۔دیہاتی جماعتوں میں ان مسائل کو حل کرنا بالخصوص زیادہ مشکل ہوتا تھا کیونکہ چھوٹی چھوٹی جماعتیں وسیع علاقہ پر پھیلی ہوتی تھیں اور شہروں کی نسبت ان سے رابطہ رکھنا اور ان کی نگرانی کرنا زیادہ مشکل کام ہوتا تھا۔پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں یہ ممکن نہیں تھا کہ ہر جگہ ایک مربی مقرر کیا جائے۔اس وجہ سے خصوصاً نئی نسل میں تربیت کی کمزوری کے آثار شروع ہو گئے اور ان میں سے بعض دین کی بنیادی باتوں سے بھی بے خبر ہو گئے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بشدت محسوس کیا کہ ایسی تحریک جاری کرنے کی ضرورت ہے جس کی توجہ کا مرکز دیہاتی تربیت سے ہو۔حضور نے 9 جولائی ۱۹۵۷ء کو عید الاضحیٰ کے خطبہ میں ارشاد فرمایا میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی کے نقشِ قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں تحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں۔وہ اپنی زندگیاں براہِ راست میرے سامنے وقف کریں۔تا کہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کا کام کر سکیں۔وہ مجھ سے ہدائتیں لیتے جائیں اور اس ملک میں کام کرتے جائیں۔ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں ہے لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا ہے۔۔۔۔پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لئے وقف کریں۔وہ صدر انجمن یا تحریک جدید کے ملازم نہ ہوں بلکہ اپنے گزارہ کے لئے وہ طریق اختیار کریں جو میں انہیں بتاؤں گا۔اور اس طرح آہستہ آہستہ دنیا میں نئی