سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 516 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 516

516 ہیں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین ! معاصر الفضل عقلِ سلیم سے کام لیتا تو شاید اسے یہ بات بھی سوجھ جاتی کہ نوائے وقت آفاق چٹان کو ہستان سفینہ نوائے پاکستان ایک ہی ادارہ کے اخبار نہیں ہیں۔نہ ان سب کا ایک ہی سیاسی مسلک ہے۔نہ ایک ہی پالیسی۔نہ یہ سب ایک ہی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ مختلف الخیال اخبارات احمدیوں یا قادیانیوں کی موجودہ روش پر بیک زبان معترض ہیں تو شاید جماعت کی اس روش میں ہی کوئی نقص ہو جس نے ان سب اخبارات کو ایک ہی انداز میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہو؟ مگر جہاں اندھی عقیدت نے دماغ کو ماؤف کر رکھا ہو وہاں عقل سے کون کام لیتا ہے؟ اندھی عقیدت کو یہ کمال حاصل ہے کہ جہاں گدھے گھوڑے نظر آتے ہیں وہاں بے نظر رسی پر بھی گماں گذرتا ہے کہ سانپ ہے۔‘(۵۱) اس تحریر کی تلخی کو نظر نداز کرتے ہوئے اگر ہم اس تحریر کا تجزیہ کریں تو یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ حمید نظامی صاحب ایڈیٹر نوائے وقت یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ مذکورہ اخبارات ایک ہاتھ کے اشارے پر ایک منصوبہ بندی کے تحت احمدیت کے خلاف لکھنا شروع کر دیں کیونکہ ان کا تعلق مختلف اداروں اور سیاسی جماعتوں سے ہے۔اول تو عقل ہی اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ مالی لالچ دے کر ، دباؤ ڈال کر یا کسی گروہ کی مخالفت اگر آپس میں قدر مشترک ہو تو مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف سیاسی ذہنیت رکھنے والے اخبارات بھی کسی گروہ کے خلاف مشترکہ مہم چلا سکتے ہیں۔اور صحافت کی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔اور حمید نظامی صاحب کو یہ بات نہیں لکھنی چاہئیے تھی کیونکہ ۱۹۵۳ء میں جب مختلف اداروں کے ماتحت نکلنے والے اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اخبارات نے مشترکہ طور پر جماعت احمدیہ کے خلاف شرانگیز پراپیگنڈا شروع کیا تو سب سے پہلے حمید نظامی صاحب نے ہی وزیر اطلاعات کے سامنے الزام لگایا تھا کہ مختلف اخبارات کی اس مہم کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہے اور ایک سرکاری افسر میر نور احمد صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا کہ یہی صاحب اس تحریک کے سب مضامین لکھوا رہے ہیں۔(۵۲) اور تحقیقاتی عدالت کے سامنے انہوں نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ مختلف اخبارات میں جماعت کے خلاف چھپنے والے مضامین کے نکات ایک ہی صاحب فراہم کرتے تھے اور یہ شکوہ بھی کیا تھا کہ