سلسلہ احمدیہ — Page 483
483 کان میں بولتے ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔جس دن خدا لوگوں کے دلوں میں بھی بولا ان پر بھی اثر ہو جائے گا۔شاڈ سمنڈ ہنس پڑے اور کہنے لگے معلوم ہوتا ہے بات یہی ہے۔حضور نے فرمایا کہ تم انتظار کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعاؤں مانگو جس دن وہ لوگوں کے دلوں میں بھی بولنے لگے گا۔لمبی چوڑی تقریروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔سارا یورپ تمہاری بات ماننے لگ جائے گا۔اگست میں بھی حضور کی طبیعت بے خوابی کی وجہ سے قدرے ناساز تھی۔سب ڈاکٹروں کا یہی مشورہ تھا کہ حضور گو آرام کی ضرورت ہے۔۱۷ اگست کو حضور نے ربوہ بذریعہ تار یہ ہدایت بھجوائی۔چونکہ ڈاکٹروں نے مجھے مکمل آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔اس لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جب تک ڈاکٹر مجھے کام شروع کرنے کا مشورہ نہ دیں اس وقت تک کے لئے میں صدر انجمن احمد یہ ربوہ اور صدر انجمن احمد یہ کراچی کو یہ اختیار دیتا ہوں کہ وہ میری بجائے کام کرتی رہیں۔(۴۱) اللہ تعالیٰ کے پیارے وجودوں کی صحبت انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ایک سولیس مسٹر سٹنڈر (Studer) جو اس سفر میں حضور کے ڈرائیور کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، لندن میں بیعت کر کے مسلمان ہو گئے۔(۴۲) اب حضور کی وطن واپسی کا وقت قریب آ رہا تھا۔۲۳ اگست کو جماعت احمد یہ لندن نے حضور کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام کیا۔اس میں دیگر مہمانوں کے علاوہ لندن کے میئر ہمبران پارلیمنٹ اور پاکستان کے ہائی کمشنر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے بھی شریک ہوئے۔حضور نے پاکستانی افراد کو تلقین فرمائی کہ وہ پاکستان کے مفاد کو مد نظر رکھیں اور اپنے آپ کو پوری طرح پاکستان کے وفادار اور دیانتدارشہری ثابت کریں۔حضور نے یور بین باشندوں کو کہا کہ وہ مادی اسباب کی بجائے خدا تعالیٰ کی ذات پر توجہ دیں۔صرف اس صورت میں ایٹم بم جیسی خطرناک طاقتیں بھی تباہی و بربادی کی بجائے امن قائم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔(۴۴)