سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 407 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 407

407 مرکز تھا۔یہاں پر صوبائی حکومت اپنے عزائم کے لئے ان کی پشت پناہی کر رہی تھی۔حکمران مسلم لیگ کے بہت سے سیاستدان اس سازش میں شامل تھے اور سرکاری مشینری کے بہت سے کل پرزے بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔چنانچہ لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، راولپنڈی، لائل پور اور منٹگمری کے شہروں میں فسادات اور لاقانونیت کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔اب فساد کرنے والوں کے قدم ایوانِ اقتدار کی طرف بڑھ رہے تھے اور حکومت کے لئے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ بالآخر پاکستانی عوام کے سامنے حقائق کو رکھے۔چنانچہ ۲۷ فروری کو پاکستان کی مرکزی حکومت نے ایک اعلان جاری کیا کہ یہ شورش پاکستان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے شروع کی گئی ہے۔اس فتنے کے بانی مبانی اصل میں احرار تھے اور بعد میں دوسرے گروہ اس میں شامل ہوتے گئے۔احرار شروع ہی سے قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے مخالف تھے اور حکومت کے پاس باوثوق شواہد موجود ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد بھی انہوں نے اس کے قیام کو تسلیم نہیں کیا اور اس تحریک کو چلانے کے لئے پاکستان کے دشمن اُن کی مدد کر رہے ہیں تا کہ مسلمانوں میں اختلافات پیدا کئے جائیں اور ملک کے استحکام کو نقصان پہنچایا جائے (۸۸، ۸۹)۔اس اعلان سے پڑھے لکھے طبقے کی اکثریت پر حقیقت آشکار ہوگئی کہ یہ فساد بیرونی ہاتھ کی مدد سے پیدا کیا جا رہا ہے۔لیکن افسوس حکومت نے ان شواہد کے معاملے میں عوام کو اُس وقت تک اعتماد میں نہیں لیا جب تک فسادات شدت نہیں اختیار کر گئے۔اس مصلحت آمیز خاموشی سے مفسد گروہ کو تقویت ملی۔اس شورش کے کئی ایسے قائدین بھی تھے جو پہلے تو بہت بلند و بانگ دعوے کر رہے تھے مگر جب انہیں گرفتاری سامنے نظر آنے لگی تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔اختر علی خان صاحب نے جو ظفر علی خان صاحب کے بیٹے اور اخبار زمیندار کے ایڈیٹر تھے ایک ختم نبوت کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے احمدیت کے خلاف اپنے عزائم کا ذکر کر کے کہا تھا اگر اس نصب العین کی خاطر مجھے تختہ دار پر بھی لٹکا دیا جائے تو میں اس سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں، (۹۰)۔مگر جب ۲۷ فروری کو انہیں گرفتاری کا وارنٹ دکھایا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر مجھے گرفتار نہ کیا جائے تو میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ میرا اس شورش سے کوئی تعلق نہیں۔چنانچہ تحقیقاتی عدالت کے تبصرے کے مطابق انہوں