سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 395 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 395

395 فرمایا کہ ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے سیاسی جماعت نہیں ہے۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ احمدی عددی لحاظ سے ملک کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔اور اگر بالفرض ان حالات میں یہ اقتدار حاصل کر لیں تو اگلے ہی روز معاند اکثریت کے ہاتھوں اُن کا خاتمہ ہو جائے گا۔اور ان حالات میں تو کوئی پاگل ہی اس کا سوچ سکتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ میں اس تحریک کو اس لئے نا پسند نہیں کرتا کہ اس سے جماعت کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس لئے نا پسند کرتا ہوں کہ اس سے اسلام کا نام بدنام ہو رہا ہے۔حضور نے فرمایا کہ ہم سے کچھ لوگوں نے رابطہ کیا ہے کہ اُن کے پاس ایسے ثبوت ہیں کہ احرار کو سرحد پار سے مددمل رہی ہے اور ہمیں بھی ایسے شواہد ملے ہیں کہ بعض احراریوں کو ہندوستان کے بعض گر وہ مدد دے رہے ہیں۔ہم ان شواہد پر تحقیق کر رہے ہیں۔(۶۲ ۶۳) پنجاب حکومت مفسدوں کی اعانت کرتی ہے: جب ان میں سے کچھ لیڈروں پر دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی پر مقدمات چلائے گئے اور عدالت سے سزائیں سنائی گئیں تو ان کے لیڈروں نے یہ اعلان کیا کہ انہوں نے اب تک کوئی خلاف قانون حرکت نہیں کی اور وہ حکومت پنجاب کو اپنی حکومت سمجھتے ہیں۔اگر گرفتار شدگان کو رہا کر دیا جائے تو وہ ایسی تقریریں بھی نہیں کریں گے جس سے امن عامہ میں خلل پڑے۔اُن کے ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ یہ محض ایک جھوٹ ہے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب دولتانہ صاحب نے یہ مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا اور بڑی عجلت میں یہ فیصلہ ڈپٹی کمشنروں تک پہنچایا گیا۔اور گرفتار شدہ احراریوں کو رہا کر دیا گیا۔اس سے فساد کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور معاشرے پر قانون کی گرفت کمزور پڑ گئی۔اور اب انہیں یہ جرات بھی ہونے لگی تھی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مراکز کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا ئیں۔جس روز یہ فیصلہ ہوا کہ یہ مقدمات واپس لے لئے جائیں گے اسی روز گپ ضلع ملتان کے سب انسپکٹر نے دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرنے پر ایک جلسہ عام اور جلوس کو بزور منتشر کرا دیا۔اس پر مفسدوں نے اس سب انسپکٹر پر الزام لگائے کہ یہ شخص نہایت گستاخ اور بے ادب ہے اور اس نے رسول کریم ﷺ کی توہین کی ہے۔اگلے روز پانچ ہزار کے غضبناک ہجوم نے اس تھانے کو گھیرے میں لے لیا اور تھانے میں داخل ہو گئے۔