سلسلہ احمدیہ — Page 390
390 ہو رہا ہے۔(۵۰) یہ وارے نیارے کس طرح ہو رہے تھے اس کا عقدہ تو تحقیقاتی عدالت میں کھلا۔البتہ پاکستان ٹائمنر ،سول اینڈ ملٹری گزٹ، ڈان، نوائے وقت اور امروز نے اُس وقت جماعت کے خلاف مہم میں حصہ نہیں لیا۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بہت سے اخبار نویسوں نے شرافت کا ثبوت دیتے ہوئے کھلم کھلا احراریوں کی مذمت کی اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔اس کے علاوہ دولتانہ صاحب کی حکومت نے محکمہ اسلامیات کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔اور اس کے تحت کچھ علماء کو بظاہر اس غرض کے لئے معاوضے پیش کئے کہ ان سے کالجوں اور جیلوں میں لیکچر دلوائے جائیں گے۔تحقیقاتی عدالت میں یہ بات ثابت ہوئی کہ جن علماء کو نوازا گیا تھا ان کی اکثریت نے جماعت احمدیہ کے خلاف تحریک میں سرگرمی کے ساتھ کام کیا۔ایک طرف تو دولتانہ صاحب یہ اظہار کر رہے تھے کہ احرار پر نظر رکھی جائے گی اور دوسری طرف وہ حکومت کی رقم جماعت کے خلاف مخالفت کی آگ بھڑ کانے کے لئے بے دریغ خرچ کر رہے تھے۔دولتانہ صاحب ان چالوں سے اپنا سیاسی قد بڑھانا چاہ رہے تھے۔یہ پاکستان کا المیہ ہے کہ اہلِ پاکستان کے ٹیکس کی رقوم کو ان ہی کے ملک میں منافرت اور فساد پھیلانے کے لئے استعمال کیا گیا۔(۵۱) فرقہ واریت کا دائرہ پھیلنا شروع ہوتا ہے: ایک طرف تو جماعت احمدیہ کے خلاف ہر قسم کا پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا ، دوسری طرف پوری کوشش کی جا رہی تھی کہ احمدیوں کی آواز کو دبا دیا جائے۔جب بھی جماعت کی طرف سے کوئی جلسہ منعقد کیا جاتا ہخالفین اِس کو رکوانے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔چنانچہ جب فروری ۱۹۵۲ء میں سیالکوٹ کی جماعت نے اپنا جلسہ منعقد کیا تو مخالفین لاؤڈ سپیکروں پر اعلان کرتے ہوئے آئے کہ وہ یہ جلسہ نہیں ہونے دیں گے۔اور جلسہ گاہ پر حملہ آور ہوتے رہے۔پولیس نے حملہ آوروں کو روکا۔ان کے پتھراؤ سے چالیس پچاس آدمی زخمی ہو گئے۔پھر بلوائیوں نے شہر میں ہلڑ بازی کی اور جلسے سے لوٹنے والے احمدیوں پر پتھراؤ کر دیا۔