سلسلہ احمدیہ — Page 389
389 جعلی اشتہارات شائع کرنا شروع کر دیے۔ظاہر کیا جاتا تھا کہ یہ اشتہار کسی احمدی نے لکھا ہے اور اصل میں ان کو احراری لکھتے تھے اور وہی تقسیم کرتے تھے۔ان میں جماعت کے عقائد کو غلط رنگ میں پیش کیا جاتا تھا اور ایسی باتیں درج کر دی جاتی تھیں جن سے لوگوں میں احمدیوں کے خلاف اشتعال پھیلے۔الفضل میں ان کے فریب کی حقیقت شائع کی گئی مگر یہ لوگ اُس مٹی سے نہیں بنے ہوئے تھے جو اپنا جھوٹ کھلنے پر شرمندگی محسوس کرتے۔(۴۹،۴۸) مخالفت کے لئے اخبار اور علماء خریدے جاتے ہیں: اُس دور میں ریڈیو اور ٹی وی جیسے ذرئع تو ابھی عام نہیں ہوئے تھے۔پرو پیگنڈا کا بہترین ذریعہ اخبار ہوا کرتے تھے۔احراریوں کا سہ روزہ آزاد تو مخالفت میں مادر پدر آزاد ہونے کا ثبوت دے رہا تھا۔لیکن اس کے ساتھ بعض دوسرے اخبارات بھی احمدیت کے خلاف شر انگیزی میں شامل ہو گئے۔یہ صرف کسی نظریاتی یا مذہبی اختلاف کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ حکومت پنجاب ان اخبارات کو اس کام کے عوض خاطر خواہ مدد مہیا کر رہی تھی۔اور یہ مدد راز داری کے ساتھ تعلیم بالغاں کے فنڈ سے نکال کر ان اخبارات کو دی جا رہی تھی۔اور بعد میں تحقیقاتی عدالت نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اخبارات میں سے زمیندار، احسان مغربی پاکستان اور آفاق نے خطیر رقوم وصول کیں اور یہی اخبارات اس شورش کو سب سے زیادہ ہوا دے رہے تھے۔اور آفاق اخبار نے تو جون ۵۲ میں لکھا کہ ہمارا اخبار فرقہ واریت کے خلاف ہے اور پھر گورنمنٹ سے رقم وصول کر کے ایک ماہ کے بعد ہی جماعت احمدیہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا شروع کر دیا۔اور اس کی کاپیاں مساجد میں مفت تقسیم کی گئیں۔زمیندار کے ایڈیٹر اختر علی خان صاحب احمدیت کے پرانے دشمن ظفر علی خان صاحب کے بیٹے تھے۔وہ اس رشوت کے حصول سے اتنے خوش ہوئے کہ اپنے اخبار میں یہ اعلان نکلوا دیا، کوئی مانے یا نہ مانے مگر ہے یہ حقیقت کہ جب سے مرزا بشیرالدین نے اپنی بددعاؤں کا سلسلہ اخبار زمیندار کے خلاف جاری کر رکھا ہے، تب سے خدائے محمد مصطفیٰ و احمد مجتبی صلعم کی غیرت جوش میں آچکی ہے۔آج زمیندر کے وارے نیارے ہیں۔وہ لاکھوں میں کھیلتا ہے اور ہزاروں کی خیرات کرتا ہے۔اس کے خزانہ میں روز افزوں اضافہ