سلسلہ احمدیہ — Page 365
365 ۱۹۵۳ء کے فسادات اور اُن کا پس منظر جیسا کہ کتاب کے حصہ اول میں ذکر آچکا ہے کہ جب جماعت احمدیہ نے کشمیر کے مسلمانوں کی بے مثال خدمت شروع کی اور ان کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی تو جہاں انصاف پسند گروہ نے اسے قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا وہاں یہ امر ایک گروہ کے حسد کو بھڑ کانے کا باعث بھی بن گیا۔مجلس احرار احمدیوں کے خلاف آگ بھڑکانے میں پیش پیش تھی۔اصول پسندی اس نیم مذہبی اور سیاسی تنظیم کا شعار نہیں تھی۔۱۹۳۹ء کی آل انڈیا احرار کا نفرنس کے خطبہ صدارت میں افضل حق صاحب نے بڑے اعتماد سے احمدیت کو ختم کرنے کا دعوئی ان الفاظ میں کیا تھا، احرار کا وسیع نظام باوجود مالی مشکلات کے دس برس کے اندر اندر اس فتنے کوختم کر کے چھوڑے گا۔باخبر لوگ جانتے ہیں کہ جانباز احرار نے کس طرح مرزائیت کو نیم جان کر دیا ہے۔(۱) اس اعتماد کی وجہ یہ تھی کہ کچھ انگریز عہدیدار بھی ان کی پیٹھ ٹھونک رہے تھے۔حضرت خلیفۃ ا رت خلیفة المسیح الثانی نے اس سازش کا تفصیلی ذکر کر کے فرمایا تھا کہ اگر حکومت نے آزاد کمیشن بٹھایا تو ہم ان افسران کے نام اور حالات ظاہر کر دیں گے۔مگر حکومت نے ایسا نہیں کیا۔(۲)۔جب احرار جماعت احمدیہ کے خلاف اپنی مہم چلا رہے تھے تو انہیں کانگرس کی حمایت بھی حاصل تھی۔ہندو وکلاء احرار کی طرف سے مفت پیش ہوتے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنا نمائیندہ پنڈت نہرو کی طرف بھیجا کہ آپ لوگوں کی ہمدردی احرار کے ساتھ کس بناء پر ہے اور یہ طرفداری کیوں کی جا رہی ہے۔انہوں نے ہنس کر کہا کہ سیاسیات میں ایسا کرنا پڑتا ہے(۳)۔احرار نے تو آگ بھڑ کانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مگر ان کی تحریک کا انجام اس آیت کریمہ کے مطابق ہوا مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلمت لا يُبْصِرُونَ ) (البقرة: ۱۸) ترجمہ: ان کی مثال اس شخص کی حالت کی مانند ہے جس نے آگ بھڑکائی۔پس جب