سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 355 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 355

355 قریب ہندوستانی فوج کی طرف سے شدید گولہ باری شروع ہو گئی اور فضا دھماکوں سے گونج اُٹھی۔اگلے روز معلوم ہوا کہ جاسوسوں نے مد مقابل فوج کو نئی بٹالین کے بڑھنے کی اطلاع کر دی تھی اور یہ اہتمام ان کے استقبال کے لئے کیا گیا تھا۔نہ صرف رات کو مدِ مقابل فوج کے دستے اگلے مورچوں تک بلا روک ٹوک پہنچتے تھے بلکہ ان کے جاسوس بھی مورچوں کے عقب میں کثرت سے پھیلے ہوئے تھے۔فرقان بٹالین نے اپنی جد و جہد کا آغاز کیا۔اور شب و روز کی محنت سے سعد آباد وادی پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔اور ان کے دستے دشمن کے عقب میں جا کر جائزہ بھی لے آتے۔اس کے علاوہ عقب میں مخالف جاسوسوں کا جال بھی ختم کر دیا گیا۔آگے حملہ کرنے کا منصوبہ بھی بنالیا گیا تھا مگر اوپر سے کسی مصلحت کی بنا پر اجازت نہیں ملی۔یہ صورت مخالف فوج کے لئے پریشان کن تھی۔انہوں نے فرقان بٹالین کی چوکیوں پر توپوں اور ہوائی جہازوں سے شدید بمباری شروع کر دی۔رسد کی مشکلات کی وجہ سے راشن کی کمی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ہندوستانی جہاز سارا دن چکر لگاتے اور جہاں پر بار برداری کے جانور دیکھتے بمباری شروع کر دیتے۔مگر اپنا کھویا ہوا علاقہ واپس نہیں لے سکے۔بلکہ وہ اپنے مورچوں پر فرقان بٹالین کے حملوں سے اتنا تنگ آئے کہ انہوں نے اپنے مورچوں کے آگے بارودی سرنگیں بچھانی شروع کیں۔۔اس محاذ پر آزاد افواج اور پاکستانی افواج نے Little Venus کے نام سے ایک حملے کا پلان بنایا تھا۔اور فرقان بٹالین بھی آگے بڑھنے کے لئے تیار تھی مگر اسوقت کے حالات کیوجہ سے اس کی اجازت نہ مل سکی حتی کہ سیز فائر کا معاہدہ ہو گیا۔سردار محمد حیات قیصرانی کے بعد صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اس بٹالین کی قیادت کرتے رہے۔اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے بھی اس مہم میں نمایاں حصہ لیا۔رضا کاروں کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی تھیں۔مجموعی طور پر 4 ہزار کے قریب رضا کاروں نے مختلف اوقات میں یہاں پر فرائض ادا کئے۔اس بٹالین کی تاریخ کا اہم تریں دن وہ تھا جس دن حضرت خلیفہ اسیح الثانی از راه شفقت خود حوصلہ بڑھانے کے لئے محاذ پر تشریف لائے۔حضور دریافت فرماتے رہے کہ جو ان کہاں سوتے ہیں،کہاں رہتے ہیں۔جب آپ کو وہ پتھر دکھایا گیا جہاں پر بیٹھ کر عموماً مشورے کئے جاتے تھے اور کوائف جمع کئے جاتے تھے تو آپ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھالئے۔یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو سیز فائر کا معاہدہ عمل میں آیا۔حکومت نے فیصلہ کیا کہ سب رضا کار محاذ سے واپس بلا لئے جائیں اور