سلسلہ احمدیہ — Page 356
356 ۷ ارجون ۱۹۵۰ء کو اس بٹالین کی سبکدوشی عمل میں آئی۔اس طرح یہ بہادر رضا کار محاذ سے سرخرو واپس آئے۔ان میں سے بعض مقامِ شہادت پر سرفراز ہوئے۔ان کی سبکدوشی کے وقت پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ کشمیر میں محاذ کا ایک اہم حصہ آپ کے سپرد کیا گیا۔اور آپ نے ان تمام توقعات کو پورا کر دکھایا جو اس ضمن میں آپ سے کی گئی تھیں۔دشمن نے ہوا سے اور زمین سے آپ پر شدید حملے کئے لیکن آپ نے ثابت قدمی اور اولوالعزمی سے اس کا مقابلہ کیا اور ایک انچ زمین بھی اپنے قبضہ سے نہ جانے دی۔(۳۷) کشمیر کا المیہ جاری رہا۔دونوں ممالک کی حکومتیں ایک دوسرے پر الزامات تو لگاتی رہیں لیکن کشمیر میں رائے شماری نہ ہوئی۔یہ واقعات تاریخ کا حصہ ہیں لیکن ہم یہاں ان تفصیلات میں نہیں جائیں گے۔ستمبر ۱۹۴۸ء میں بھارتی افواج نے حیدر آباد پر بھی قبضہ کر لیا اور اس کی آزاد حیثیت ختم ہوگی۔باہمی کدورتیں بڑھتی رہیں اور شکوک کے بادل گہرے ہوتے گئے۔تین جنگوں کے بعد انجام یہ ہوا کہ دونوں ممالک ہتھیاروں کی دوڑ سے بڑھ کر اب جوہری ہتھیاروں سے بھی لیس ہو چکے ہیں۔اگر ابتداء میں افہام و تفہیم کا ماحول پیدا کیا جاتا اور جیسا کہ حضور نے ارشاد فرمایا تھا پہلے یہ طے کیا جاتا کہ کن اصولوں کے مطابق ان تنازعات کا فیصلہ کیا جائے گا تو آج یہ خطہ امن کا گہوارہ بھی ہوسکتا تھا مگر افسوس ایسا نہ ہوسکا۔(1) The Emergence of Pakistan,by Chaudri Muhammad Ali,published by Research Society of Pakistan, Oct 2003, page222-236 (۲) زمیندار ۱۳ کتوبر ۱۹۴۷ء ص ۲ (3) The Emergence of Pakistan,by Chaudri Muhammad Ali,published by Research Society Of Pakistan, Oct 2003p287-290 (4) The History of Struggle for freedom in Kashmir,by Prem Nath azaz, published by Kashmir Publishing Comopany, New Dehli, 1954, page317-322 (۵) آتشِ چنار، مصنفہ شیخ عبداللہ مطبع جے کے آفسٹ پریس ، جامع مسجد دہلی ، ۱۹۸۶ء ص ۳۹۹ (۶) زمیندار ۲۵ ستمبر ۱۹۴۷ء ص ۲ (4)Kashmir Fights For Freedom, VI 2, by Muhammad Yusuf Saraf, Ferozsons Ltd۔, 1979,p859 (۸) تاریخ احمدیت جلد ۶ ص ۶۵۵-۶۶۰