سلسلہ احمدیہ — Page 312
312 دی اور کہا کہ کافی عرصہ سے یہ مسئلہ زیر بحث ہے ، اب مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے رائے شماری ابھی ہونی چاہئیے۔لیکن ڈنمارک اور لکسمبرگ نے فرانس کی تجویز کی حمایت کی اور جب ووٹنگ کرائی گئی تو اکثریت نے چوبیس گھنٹے التواء کی حمایت کی لیکن اب سوویت یونین اور امریکہ ووٹنگ میں التواء کی مخالفت کر رہے تھے۔رائے شماری اُس وقت ملتوی کی گئی جب بڑی طاقتوں کو اپنی کامیابی کا یقین ہو گیا تھا۔۲۹ نومبر کو ووٹنگ کرانے کے اعلان پر اجلاس ختم کر دیا گیا۔فرانس کے مندوب کی غیر متوقع تجویز پر ایک بار پھر ووٹنگ ملتوی کر دی گئی تھی۔لیکن چوبیس گھنٹے کے اندر تو اس مسئلہ کا حل نہیں نکل سکتا تھا۔اس کے لئے تو جس طرح کولمبیا کے مندوب نے تجویز دی تھی کچھ عرصہ درکار تھا۔اُس وقت جنرل اسمبلی میں کیا ہو رہا تھا اس کے متعلق اُس وقت کی ایک اخباری رپورٹ کا ایک حصہ درج کیا جاتا ہے سر ظفر اللہ خان ( پاکستان ) ، جن کا تقسیم کی تجویز کے خلاف جد و جہد میں ایک بڑا حصہ ہے کل رات کے ڈرامائی التواء سے یقینی طور پر خوش نظر آرہے تھے۔جو نہی انہوں نے لابی میں سعودی عرب کے امیر فیصل اور عرب ہائر کمیٹی کے جمال حسینی سے گفتگو ختم کی انہوں نے پریس کو بیان دیا کہ میرے خیال میں اس التواء کے دوران کوشش ضرور کرنی چاہئیے۔ممکن ہے کہ کولمبیا کے مندوب کی تجویز کہ یہ معاملہ فلسطین کمیٹی میں واپس بھجوایا جائے، پر پھر غور ہو۔ہم یقینی طور پر کولمبیا کے وفد کی تجویز کی حمایت کریں گے۔۔اس تناؤ کو مدھم پڑنے کے لئے کچھ وقت دینا چاہیئے۔اور پھر کمیٹی دوبارہ مل کر مفاہمت کی کوشش کر سکتی ہے۔مزید التواء بہتر ہوگا کیونکہ اس وقت عربوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہوئی ہے۔اور جو کچھ گذشتہ چند دنوں میں ہوا ہے اس کے نتیجے میں یہودی محسوس کریں کہ ہاتھ میں آئی کامیابی کو اُن سے چھین لیا گیا ہے۔جب اُن سے پوچھا گیا کہ یہودی اور عربوں کے درمیان مفاہمت کی بنیاد کیا ہوسکتی ہے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مجھے ثالث مقرر کر دیں تو میں انہیں ایک حل دے سکتا ہوں۔(۱۰)