سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 306 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 306

306 اُن سے کئے گئے وعدے کس طرح پورے کئے گئے؟ ہمیں اکثر یاد دلایا جاتا ہے کہ ان وعدوں کے دس حصوں میں سے نو حصے تو پورے کر دیئے گئے۔اور اسے کافی سمجھنا چاہیے۔اگر ایسا ہی ہے تو ذرا ٹھہریں اور سوچیں کہ کیا اس کے بعد کسی عہد و پیمان بالخصوص مغربی طاقتوں کے عہد و پیمان پر بھروسہ کیا جائے گا؟ اے مغربی اقوام یا د رکھو ! شاید کل تمہیں دوستوں کی ضرورت پڑے۔شاید تمہیں مشرق وسطی میں اتحادیوں کی ضرورت پڑے۔میں تم سے درخواست کرتا ہوں کے اُن ممالک میں اپنے اعتماد کو برباد نہ کرو، اسے خاک میں نہ ملاؤ اس کے بعد آپ نے فریق مخالف کے دلائل کو ایک ایک کر کے لیا اور قانونی اور عقلی دلائل سے ان کا رد فر مایا۔آپ نے فرمایا کہ اس بات کو بہت زور دے کر بیان کیا گیا ہے کہ اس مسئلے کو انسانی ہمدردی کے پہلو سے دیکھنا چاہئیے۔یہ صرف یہودی پناہ گزینوں تک محدود نہیں جو شخص بھی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو اس کی تکالیف کا ازالہ کرنا چاہئیے۔لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس مقصد کے لئے فلسطین نے اب تک کیا کیا ہے؟ پہلی جنگِ عظیم کے بعد چار لاکھ یہودی فلسطین میں پناہ لے چکے تھے اور جب نازیوں نے جرمن یہودیوں پر مظالم شروع کئے تو مزید تین لاکھ یہودی فلسطین منتقل ہو گئے۔اور ان اعداد و شمار میں وہ یہودی شامل نہیں جو غیر قانونی طور پر فلسطین میں داخل ہوئے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو ممالک انسان دوستی کے اصولوں کی باتیں کر رہے ہیں اور اُن کی مالی حیثیت سب سے بڑھ کر ہے انہوں نے اس مسئلہ کے حل کے لئے اپنی جیب سے سب سے کم حصہ ڈالا ہے۔مگر جب عربوں کے کھاتے سے حل تجویز کرنے کی بات ہو تو وہ نہ صرف اس کے لئے تیار ہیں بلکہ مشتاق نظر آتے ہیں۔ہمیں تاریخ میں ایسے بہت کم دور نظر آتے ہیں جب یورپ کے کسی نہ کسی حصہ میں یہودیوں پر مظالم نہ کئے گئے ہوں۔انگریز بادشاہ اور نواب اگر کبھی اُن سے نرم سلوک کرتے تھے تو یہودی تاجروں اور ساہوکاروں کے دانت نکلوایا کرتے تھے تا کہ اُن کو اقتصادی مدد دینے کے لئے آمادہ کیا جا سکے۔اور اُس وقت یہ یہودی عرب سپین میں آ کر پناہ لیا کرتے تھے۔اور عربوں کی یہ سلطنت اُن کے لئے پناہ گاہ تھی۔اور آج یہ کہا جا رہا ہے کہ بیچارے یہودیوں پر یورپ میں بڑے مظالم ہوئے ہیں، اس لئے فلسطین کے عربوں کو چاہئیے کہ سپین کے عربوں کی طرح نہ