سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 269 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 269

269 کشمکش کریں گے۔(۱۵) قائد اعظم کے نظریات اور مودودی صاحب اور ان جیسے دوسرے علماء کے خیالات کے درمیان ایک خلیج ہی نہیں بلکہ ایک وسیع سمند ر نظر آتا ہے۔مودودی صاحب تو جس حکومت کے قائل ہیں اُس میں غیر مسلم تو در کنار مسلمانوں کی بھاری اکثریت کی حیثیت صرف ایک ایسے مرید کی سی ہے جو اپنے لب سی کر ایک مختصر سے گروہ صالحین کے منہ کی طرف تک رہا ہے کہ وہ کیا ارشادفرماتے ہیں اور مودودی صاحب کے نزدیک یہ گروہ صالحین ان کی اپنی جماعت تھی۔کیونکہ ان کے نزدیک ہزار میں سے ۹۹۹ مسلمان تو صرف نام کے مسلمان تھے۔مودودی صاحب صرف ایک مذہبی ریاست کے ہی نہیں بلکہ ایک Oligarchy کے قائل تھے ، جس میں حکومت ایک مختصر سے گروہ کے ہاتھ میں ہو جو باقی ساری قوم کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہو۔وہ اپنی کتاب ”مسلمان اور موجودہ سیاسی کے صفحہ ۹۳ پر یہ اعلان بڑی وضاحت سے کر چکے تھے کہ اگر مغرب کی نقل میں جمہوری طرز حکومت اپنایا گیا تو پاکستان نہیں بلکہ نا پاکستان وجود میں آئے گا اور قائد اعظم مسلسل ایک جمہوری مملکت کا خاکہ پیش کر رہے تھے جس میں ہر عقیدہ کے لوگ نہ صرف برابر کے حقوق رکھیں گے بلکہ امور مملکت چلانے میں غیر مسلم بھی مسلمانوں جتنا ہی حق رکھیں گے۔بلکہ حکومت کا لوگوں کے مذہبی خیالات سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔یہ تقاریر تو بجلی بن کر بہت سے علماء کی خواہشوں پر برس رہی تھیں لیکن اس کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ مودودی صاحب اور بہت سے علماء جو پاکستان کے مخالف تھے انہیں حالات سے مجبور ہو کر پاکستان میں پناہ لینی پڑی۔لیکن اس نقل مکانی کے ساتھ انہیں اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لئے ایک ممکنہ راستہ نظر آنے لگا۔پاکستان تو اب بن چکا تھا۔ابھی تو اس کی حکومت تو مسلم لیگ کے ہاتھ میں تھی لیکن اس کے اقتدار کے حصول کے لئے طبع آزمائی تو کی جاسکتی تھی۔حصول اقتدار کے لئے آسان ترین طریقہ یہ تھا کہ اس نئی مملکت میں نظام اسلامی کا نعرہ لگایا جائے۔پاکستان کی بدنصیبیوں کا آغاز ہو چکا تھا۔مودودی صاحب اور اُن جیسے دوسرے علماء اگر اپنے خیالات پر قائم رہتے تو ایک لحاظ سے یہ قابل قدر بات ہوتی کہ انہوں نے جو سمجھا اُس پر اصول پسندی کے ساتھ ڈٹے رہے۔جیسا کہ ان کی تحریروں سے صاف نظر آتا ہے کہ اُن کے نزدیک اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ پاکستان بننے