سلسلہ احمدیہ — Page 186
186 اللہ تعالیٰ کے فضل سے کس طرح قادیان کے مقامات مقدسہ محفوظ رہے اور بلوائیوں کے تمام بد ارادوں کے باوجود کیسے قادیان میں محصور ہزاروں عورتوں اور بچوں کو بحفاظت وہاں سے نکالا گیا۔قیام لاہور کے ابتدائی دن ، نظام جماعت کا احیاء : حضور کی آمد سے قبل ہی لاہور کی جماعت نے رہائش اور جماعتی دفاتر کی ضروریات کے پیش نظر میوہسپتال کے قریب چار کوٹھیوں کا انتظام کر دیا تھا۔دفاتر کے قیام اور کارکنوں کی رہائش کے لئے جودھامل بلڈنگ کا انتخاب کیا گیا اور حضور اور خاندانِ حضرت مسیح موعود کے افراد کی رہائش رتن باغ میں تھی اور جسونت بلڈنگ اور سیمنٹ بلڈنگ میں دیگر احباب کی رہائش تھی۔حضور ۳۱ اگست ۱۹۴۷ء کو لا ہور تشریف لائے اور اگلے ہی روز نظام جماعت قائم کرنے کا کام شروع کر دیا گیا۔یکم ستمبر کو جودھامل بلڈنگ کے صحن میں حضور کی صدارت میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی بنیاد رکھی گئی (۱)۔اگر چہ ابھی لاہور میں بہت تھوڑے کارکنان پہنچے تھے لیکن یہ فیصلہ کیا گیا کہ صدر انجمن احمدیہ کے تمام دفاتر لاہور میں قائم کر دیئے جائیں۔یہ ستمبر کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ارشاد کے ماتحت لاہور کی صدر انجمن احمدیہ کے مندرجہ ذیل عہدیداران کی تقرری صدرانجمن احمدیہ قادیان کے ریزولیشن میں بھی ریکارڈ کی گئی۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب ناظر اعلیٰ مقرر ہوئے۔میاں عبد الباری صاحب ناظر بیت المال ( مگر جب خان صاحب برکت علی لاہور پہنچ جائیں گے تو وہ ناظر بیت المال ہوں گے ) ،مولانا عبدالرحیم صاحب درد ناظر تعلیم ، ناظر امور عامہ اور ناظر امور خارجہ، نواب محمد الدین صاحب ناظر دعوت و تبلیغ و جوائنٹ ناظر امور خارجہ مقرر کئے گئے۔ناظر تنظیم کے نام سے ایک نیا عہدہ بنایا گیا اور اس پر مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب نے کام شروع کیا۔اور مرزا عبد الغنی صاحب پہلے ہی لاہور میں بطور محاسب کام کر رہے تھے۔پھر جلد ہی نئے اراکین شامل کر کے دس ممبران پر مشتمل انجمن تشکیل دی گئی اور اس کا اعلان ۱۸ ستمبر کے الفضل میں کیا گیا۔اس میں حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب ، حضرت مولانا عبد الرحیم درد صاحب ، اور مکرم نواب محمد دین صاحب انہی عہدوں پر کام کر رہے تھے۔اور مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب ناظر انخلاء آبادی و نو آبادی اور مکرم ملک سیف الرحمن صاحب ناظر ضیافت مقرر ہوئے۔ان کے علاوہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب، مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب،