سلسلہ احمدیہ — Page 187
187 مکرم شیخ بشیر احمد صاحب، مکرم صوفی عبد القدیر صاحب نیاز اور مولوی محمد صدیق صاحب کو بھی صدر انجمن احمد یہ پاکستان کا ممبر مقرر کیا گیا۔حضور نے ہدایت فرمائی کہ انجمن کے اراکین روزانہ دس سے بارہ بجے تک رتن باغ میں میٹنگ کے لئے آئیں اور اپنی رپورٹیں پیش کریں۔اور یہ فیصلہ ہوا کہ مہاجر احمدی افراد اور جماعتوں کی نسبت معلوم کیا جائے کہ وہ کہاں ہیں اور انہیں ایک خاص نظام کے تحت بسایا جائے۔صدرانجمن احمد یہ اور حضور کی ان زمینوں کو جور ہن تھیں آزاد کرایا جائے۔اور جو دھامل کی بلڈنگ کے ماحول میں مزید کوٹھیاں حاصل کی جائیں۔حضور کی لاہور آمد کے فوراً بعد ہی یکم ستمبر ۱۹۴۷ء کو پاکستان میں مجلس تحریک جدید کے 4 نئے ممبران کا تقرر کیا گیا۔یہ نمبر ان مکرم مولوی ابوالمنیر مولوی نورالحق صاحب، مکرم چوہدری محمد شریف صاحب، مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب، مکرم مولا نا ملک سیف الرحمن صاحب، مکرم مولوی محمد صدیق صاحب اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب تھے۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ ان کے اختیارات باقی ممبران کے برابر ہوں گے۔ان کا کورم حقیقی کورم سمجھا جائے گا اور حسب ضرورت یہ ممبران قادیان سے باہر لاہور یا کسی اور مقام پر اجلاس کر سکتے ہیں۔اور اس غرض کے لئے صدر اور سیکر یٹری کا انتخاب بھی کیا جا سکتا ہے۔(۱۲) لاہور میں پہلی مشاورت : اس پس منظر میں سے ستمبر کو لاہور میں ایک مجلس مشاورت منعقد کی گئی۔اب تک یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ فوج اور پولیس بھی بلوائیوں کی پشت پناہی کر رہی تھی اور اس وجہ سے قادیان کے محصورین کی جانیں شدید خطرے میں تھیں اور دوسری طرف قادیان کو آباد رکھنا اور وہاں کے مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت کا انتظام کرنا بھی نہایت ضروری تھا چنانچہ اس مجلس مشاورت میں حضور کی منظوری سے فیصلہ کیا گیا کہ مشرقی پنجاب کے احمدی اپنی جگہوں پر رہیں ، البتہ عورتوں اور بچوں کو حفاظت کی غرض سے پاکستان بھجوا دیا جائے۔اور یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تمام جماعتیں ۱۸ سال سے لے کر ۵۵ سال کے افراد کی فہرستیں بنا کر قرعہ ڈالیں اور ان میں سے 1/8 حصہ قادیان کی حفاظت کے لئے