سلسلہ احمدیہ — Page 182
182 جائیں کیونکہ اس تاریخ کے بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتیں اپنے علاقہ کی حفاظت کی مکمل طور پر ذمہ ار ہوں گی۔ایک انگریز فوجی افسر جو بٹالہ میں لگا ہوا تھا ، حضور کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ مجھے علم ہے کہ ۳۱ اگست کے بعد ان کے کیا منصوبے ہیں۔اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔یہ کہتے ہوئے اس پر خود بھی رقت طاری ہو گئی۔اب سب کا مشورہ یہی تھا کہ ان حالات میں یہی بہتر معلوم ہوتا ہے کہ حضور قادیان سے باہر کسی محفوظ مقام پر تشریف لے جائیں۔اب قادیان میں رہتے ہوئے قادیان کی حفاظت کے لئے کوشش کرنا بھی ممکن نہیں رہا تھا کیونکہ بیرونی دنیا سے روابط منقطع ہو چکے تھے۔لیکن ان حالات میں تمام راستوں پر حالات مخدوش تھے۔مقامی حکومت اور فوج کے ارادے خطرناک نظر آرہے تھے۔ایسی حالت میں حضور کے قافلے کی حفاظت کا انتظام کرنا ایک نہایت نازک کام تھا۔بہت سی جگہوں پر رابطہ کر کے انتظامات کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔آخر کار یہ سعادت ایک احمدی کیپٹن مکرم عطاء اللہ صاحب کے حصے میں آئی۔انہوں نے تین گاڑیوں اور ان کی حفاظت کے انتظامات کئے اور انہیں لے کر قادیان پہنچ گئے۔حضور ۳ اگست کو سوا بجے بعد دو پہر قادیان سے روانہ ہوئے اور کیپٹن ملک عطاء اللہ صاحب کی اسکورٹ میں شام کے قریب لاہور پہنچ گئے۔اس قافلے میں حضرت مصلح موعودؓ کے ہمراہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ اور سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ بھی سفر کر رہی تھیں۔حضور فر ماتے ہیں کہ یہاں پہنچ کر میں نے پوری طرح محسوس کیا کہ میرے سامنے ایک درخت کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگا نا نہیں بلکہ ایک باغ کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا ہے۔(۶۰۔(۶) اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتا دیا تھا کہ آپ کی جماعت کو ہجرت کی آزمائش سے گذرنا پڑے گا۔۱۸ ستمبر ۱۸۹۴ء کو آپ کو الہام ہوا داغ ہجرت (۶۲) اس کے علاوہ آپ کا ایک الہام ہے یاتی علیک زمن کمثل زمن موسی ، یعنی تیرے پر ایک ایسا زانہ آئے گا جیسا کہ موسیٰ پر زمانہ آیا تھا۔(۶۳) اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ہجرت نہایت بے بسی اور خطرے کی حالت میں ہو گی۔۱۹۳۸ء میں جب کہ ابھی آنے والے امتحان کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی خدمت میں تحریر کیا ”آج کل میں تذکرہ کا کسی قدر بغور مطالعہ کر رہا ہوں۔مجھے بعض الہامات وغیرہ سے یہ محسوس ہوتا ہے۔کہ شائد