سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 6 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 6

6 میں جماعتیں قائم ہو گئیں۔یہاں جماعت کی پہلی مسجد ممباسہ میں کلنڈنی کے مقام پر چھپروں کی بنائی گئی تھی۔یوگنڈا کے علاقے میں سب سے پہلے جہلم کے رہنے والے دو اشخاص احمدی ہوئے تھے، پھر وہ یہاں سے بجین کونگو چلے گئے۔اس کے بعد ان کے حالات کا علم نہیں ہوا۔پھر خلافت اولیٰ کے اواخر میں یا خلافت ثانیہ کے شروع میں یہاں ہندوستان سے آئے ہوئے کچھ احمدی آباد ہوئے۔ٹانگا نیکا کا علاقہ ۱۹۱۹ء تک جرمنی کے تسلط میں تھا اور پہلی جنگِ عظیم میں جرمنی کی شکست کے بعد یہ علاقہ برطانیہ کے تسلط میں آ گیا۔اس کے بعد خلافت ثانیہ میں یہاں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔اور دار السلام ہو را اور دوسرے مقامات پر ہندوستانی احمدیوں کی جماعتیں قائم ہوئیں۔(۱۵،۱۴،۱۳) مگر اب تک اس علاقے کی جماعتیں ہندوستان سے آئے ہوئے احمدیوں پر مشتمل تھیں اور مقامی لوگ جماعت میں شامل ہونا شروع نہیں ہوئے تھے۔گو اس وقت یہاں پر با قاعدہ مشن قائم نہیں ہوا تھا ، تاہم باقاعدہ نظام جماعت جاری ہو گیا تھا اور احمدی احباب احمدیت کی تبلیغ کے لئے کوششیں کرنے کے علاوہ مالی قربانیوں میں بھی حصہ لے رہے تھے۔۱۹۲۳ء میں جماعت احمد یہ نیروبی نے پندرہ روزہ البلاغ جاری کیا (۱۶)۔نیروبی کے مقام پر احمدیوں نے خوبصورت مسجد تعمیر کی جو ۱۹۳۱ء میں مکمل ہوئی۔اس کے بعد نیروبی سے دو سو میل ایک قصبہ میرو میں ایک مخلص احمدی کے چندے سے احمدیہ مسجد تعمیر کی گئی۔(۱۷)۔غیر احمدیوں کی طرف سے جماعت کے خلاف گندے اشتہارات شائع کئے جاتے تھے۔ان کا جواب دینے کے لئے نیروبی جماعت نے ایک پرانی لیتھو ہینڈ مشین کو قابلِ استعمال بنا کر اشتہارات شائع کرنے شروع کئے۔جب تبلیغ احمدیت کا دائرہ وسیع ہوا تو مخالفین احمدیت نے اشتعال میں آکر انجمن حمایت اسلام کے نام سے اپنی انجمن بنائی اور مشرقی افریقہ کے مختلف مقامات پر اس کی شاخیں قائم کیں اور جماعت کے خلاف گندہ ۹ پروپیگنڈا شروع کر دیا۔اس انجمن کا بانی مبانی اور پریذیڈنٹ سید احمد الحداد نام کا ایک با اثر اور امیر شخص تھا۔۱۹۳۴ء کے وسط میں مخالفین نے جماعت احمد یہ نیروبی کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔جماعت کے نمائیندگان مباہلہ کی شرائط طے کرنے کے لئے گئے اور واضح کیا کہ وہ اپنے امام کی اجازت ملنے ا پر مباہلہ کے لئے تیار ہیں۔غیر احمدیوں نے یہ سن کر کہ احمدی اپنے امام کی اجازت کے بغیر مباہلہ