سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 135 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 135

135 بنیادی سوالات سے گریز کا انجام : بسا اوقات اگر کسی بنیادی اہمیت کے مسئلے پر دوٹوک مؤقف اختیار نہ کیا جائے تو یا تو بعد میں اس کے بھیانک نتائج نکلتے ہیں یا پھر مدتوں تک اس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اس وقت مرکزی مسلم لیگ نے مسلمان کی تعریف والے مسئلے پر مخالفانہ رویہ تو نہیں دکھایا مگر اس کو اصولی طور پر اپنے دستور اساسی میں وضاحت کے ذریعہ طے بھی نہیں کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں اس بنیاد پر پاکستان میں فرقہ وارانہ تعصب کا دروازہ کھلتا گیا۔اور اس تعصب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا رحجان بھی بڑھتا گیا۔بالآخر ۱۹۷۴ء میں آئین میں ترمیم کے ذریعہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا اور ۱۹۸۴ء میں جماعت کے خلاف آرڈینینس جاری کر کے تعصب اور تنگ نظری کا ایک اور سیاہ باب رقم کیا گیا۔نفرت کا یہ طوفان صرف احمد یوں تک محدود نہ رہا بلکہ فرقہ وارانہ اختلافات نے وہ خونی شکل اختیار کی کہ ملک کا امن برباد ہو کر رہ گیا۔دوسری طرف بھارت میں مذہبی تعصب کو قانونی شکل دینے کے عمل نے یہ انتہائی شکل تو اختیار نہ کی مگر ۱۹۵۴ء اور ۱۹۶۰ء میں ہندوستان کی پارلیمنٹ میں ایسے بل پاس کرانے کی ناکام کوشش ہوئی جس کے نتیجے میں تبلیغ اور تبدیلی مذہب کی آزادی متاثر ہو سکتی تھی۔پھر ۱۹۶۷ء کے بعد پہلے اڑیسہ اور مدھیا پردیش کی ریاستوں نے ،ان کے بعد اروناچل پردیش اور آخر میں تامل ناڈو کی حکومتوں نے ایسے قوانین کی منظوری دی جس کے ذریعہ تبلیغ اور تبدیلی مذہب پر حکومت کو کنٹرول کا اختیار مل گیا اور ان بنیادی حقوق کی مکمل آزادی متاثر ہوئی۔(۱۱) بہر حال اب ۱۹۴۵ء کے تاریخی الیکشن قریب تھے۔ہندوستان کے احمدی راہنمائی کے لئے اپنے امام کی طرف دیکھ رہے تھے۔۲۲ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو الفضل میں حضور کی طرف سے ایک تفصیلی اعلان شائع ہوا۔اس میں حضور نے تحریر فرمایا ” میری اور جماعت احمدیہ کی پالیسی شروع سے یہ رہی ہے۔کہ مسلمان ہندوؤں اور سکھوں اور دوسری اقوام میں کوئی با عزت سمجھوتہ ہو جائے۔اور ملک میں محبت اور پیار اور