سلسلہ احمدیہ — Page 136
136 تعاون کی روح کام کرنے لگے۔مگر افسوس کہ اس وقت تک ہم اس غرض میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اگر کسی طرح ہندو اور مسلمان قریب لائے جاسکیں۔تو پاکستان اور اکھنڈ ہندوستان کا آپس میں قریب لانا بھی مشکل نہ ہو گا۔ورنہ پاکستان یا اکھنڈ ہندوستان ہوں یا نہ ہوں۔پاکھنڈ ہندوستان بننے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔“ کانگرس نے شملہ کا نفرنس کی ناکامی سے بددل ہو کر اعلان کیا تھا کہ وہ اب مسلم لیگ سے گفتگو نہیں کرے گی بلکہ براہ راست مسلمانوں کو مخاطب کرے گی۔حضور نے واضح فرمایا کہ اگر شروع سے کانگرس کا یہ نظریہ ہوتا تو میں اسے حق بجانب سمجھتا مگر اب جب کہ مسلمان ایک متحدہ محاذ قائم کر چکے ہیں ان کا یہ فیصلہ ان کے لئے بھی تکلیف کا باعث ہوا ہے جو کانگرس سے ہمدردی رکھتے ہیں۔گو ہم دل سے پہلے بھی ایسے اکھنڈ ہندوستان کے ہی قائل تھے جس میں مسلمان کا پاکستان اور ہندو کا ہندوستان برضا و رغبت شامل ہوں۔ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ ساری دنیا کی ایک حکومت قائم ہوتا انسانیت بھی اپنے جوہر دکھانے کے قابل ہومگر ہم اس کو آزاد قوموں کی آزاد رائے کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں جبر اور زور سے کمزور کو اپنے ساتھ ملانے سے یہ مقصد نہ دنیا کے بارہ میں پورا ہو سکتا ہے۔اور نہ ہندوستان اس طرح اکھنڈ ہندوستان بن سکتا ہے۔اس تجزیے کے بعد حضور نے تحریر فرمایا میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں۔کہ آئیندہ الیکشنوں میں ہر احمدی کو مسلم لیگ کی پالیسی کی تائید کرنی چاہئیے۔تا انتخابات کے بعد مسلم لیگ بلا خوف تردید کانگرس سے یہ کہہ سکے۔کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ ہے۔اگر ہم اور دوسری مسلمان جماعتیں ایسا نہ کرینگی۔تو مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کمزور ہو جائیگی۔اور ہندوستان کے آئیندہ نظام میں ان کی آواز بے اثر ثابت ہوگی۔۔۔پس میں اس اعلان کے ذریعہ سے پنجاب کے سوا ( جس کی نسبت میں آخر میں کچھ بیان کرونگا ) تمام صوبہ جات کے احمدیوں کو مشورہ دیتا ہوں۔کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر پورے زور اور قوت کے ساتھ آئیندہ انتخابات میں مسلم لیگ کی مدد کریں۔“