سلسلہ احمدیہ — Page 125
125 دیول سکیم اور حضور کی نصیحت : ۱۹۴۵ء کے آغاز میں جمود ٹوٹنا شروع ہوا۔پہلے کانگرس کے لیڈر بھولا بھائی ڈیسائی صاحب اور مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل نواب زادہ لیاقت علی خان صاحب کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے۔دونوں نے اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ مرکز میں ایسی کا بینہ تشکیل کی جائے جس میں کانگرس اور مسلم لیگ دونوں کے پاس چالیس چالیس فیصد وزارتیں ہوں اور بیس فیصد وزارتیں سکھ اور اچھوت اقوام سے تعلق رکھنے والوں کے لئے مخصوص کی جائیں۔برطانوی وائسرائے اور کمانڈر انچیف بدستور کابینہ میں شامل رہیں۔یہ طے کیا گیا کہ جب یہ عارضی حکومت بن جائے تو اس کا پہلا قدم کانگرس کے گرفتار لیڈروں کو رہا کرانا ہو گا۔اس کے بعد مارچ ۱۹۴۵ء میں وائسرائے لارڈ ویول(Wavell) برطانوی وزیر اعظم سے مشورہ کرنے کے لئے لندن چلے گئے۔ہندوستان واپس آنے پر انہوں نے مرکز میں عبوری حکومت قائم کرنے کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں۔یہ تجاویز تاریخ میں ویول سکیم کے نام سے معروف ہیں۔اس سکیم میں تجویز کیا گیا تھا مرکز میں ایک ایسی وزارت قائم کی جائے جس میں وائسرائے اور وزیر جنگ کے علاوہ تمام وزیر ہندوستان کے ہوں۔مسلمانوں اور اعلی ذات کے ہندؤں کے پانچ پانچ اراکین کا بینہ میں شامل ہوں۔ان کے علاوہ سکھوں اور اچھوت اقوام سے تعلق رکھنے والوں کو بھی نمایندگی دی جائے اور یہ کا بینہ جاپان کی مکمل شکست تک جنگ جاری رکھے اور اس وقت تک حکومت کو چلائے گی جب تک ایک جدید دستور پر اتفاق نہ ہو جائے۔(۵۴) اس طرح ایک عرصہ کے بعد ہندوستانیوں کے لئے آزادی کی امید پیدا ہوئی مگر اس کے ساتھ ہی مختلف سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات بھی زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آنے لگے۔حضور نے ۲۲ جون کے خطبہ جمعہ میں اس پیش کش کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس پیش کش کورد کر دینا ہندوستان کی بدقسمتی ہوگی کیونکہ اگر انگریزوں کے ہاتھ میں سو فیصد اختیارات کے ہوتے ہوئے ہندوستان آزادی کی امید رکھ سکتا ہے تو نوے فیصد اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لے کر آزادی کی امید کیوں نہیں رکھ سکتا۔حضور نے ہندوستان میں پیدا ہونے والی غلامانہ ذہنیت کا تجزیہ کرتے