سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 124 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 124

124 بھی نصیب نہیں ہوئی۔انگلستان کے لئے ہندوستان میں ایسی وسیع منڈیاں ہیں جو اسے کہیں اور نہیں مل سکتیں۔اور فرمایا کہ ہندوستان کو بھی یہی نصیحت ہے کہ وہ انگلستان کے ساتھ پرانے اختلافات بھلا دے تا کہ دونوں آپس میں جلد از جلد صلح کریں۔حقیقت یہ ہے کہ کچھ دہائیوں تک ہندوستان کو ایک زبردست طاقت کی مدد کی ضرورت ہو گی۔اور یہ ضروری ہے کہ مسلمان ، ہندو، کانگرس اور مسلم لیگ اور دوسری سیاسی پارٹیاں پہلے آپس میں صلح کریں۔موجودہ حالات میں ہندوستان کی قوموں کے آپس میں اختلافات ایسی شدت اختیار کر چکے ہیں کہ جب صلح کے سوال پر غور کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں تو غصے میں آجاتے ہیں اور صلح کی بجائے طعن و تشنیع پر اتر آتے ہیں۔زمانہ تو یہ تھا کہ ہندو مسلمان اور دوسری قومیں بھی ایک دوسرے سے صلح کر لیتیں مگر ہو یہ رہا ہے کہ مسلمان بھی آپس میں لڑ رہے ہیں اور خواہ اوپر سے نظر نہ آئے ہندو بھی آپس میں پھٹ رہے ہیں۔اس صورتِ حال میں آپ نے ان الفاظ میں جماعت کو اپنا فرض یاد دلایا۔پس یہ نیا سال جو شروع ہوا ہے اس میں میں نے صلح کی آواز بلند کی ہے۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ اسے ہر ملک ہر شہر ہر گاؤں ہر گھر بلکہ ہر ایک کمرہ اور ہر ایک آدمی تک پہنچائے۔تا یہ دنیا کے کونہ کونہ تک پہنچ جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے صلح کا شہزادہ قرار دیا ہے۔اور ہم بھی جو آپ کی روحانی اولاد ہیں صلح کے شہزادے ہیں۔۔۔۔پس ہر احمدی جو صلح کا شہزادہ بنے کی کوشش نہیں کرتا وہ حضرت مسیح موعود کا سچا خادم نہیں۔(۱) لندن میں مولانا جلال الدین شمس صاحب نے صلح کے اس پیغام کی اشاعت کے لئے بہت کوششیں کیں۔مشہور جریدے ٹائمنر میں اسے ایک مکتوب کی صورت میں شائع کروایا اور ایک دو ورقہ کی صورت میں شائع کروا کر اسے وزراء کے علاوہ چھ صدا راکین پارلیمنٹ کو بھی بھجوایا۔ان میں سے کئی اکابرین نے جواب میں شکریے کے خطوط لکھے اور ان خیالات سے اتفاق کیا۔(۲) کینیا کالونی کے گورنر نے جب اس کا مطالعہ کیا تو اتنا متاثر ہوئے کہ ان کے حکم پر اس خطبہ کا مفہوم نیروبی ریڈیو سے براڈ کاسٹ کیا گیا۔(۳)