سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 123 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 123

123 دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ اور ہندوستان میں انتخابات کی تیاری ۱۹۴۵ء کے آغاز میں دوسری جنگِ عظیم کے ختم ہونے کے آثار تو نظر آرہے تھے لیکن ہندوستان کے افق پر مایوسی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔برطانوی حکومت نے ابھی ہندوستان کو آزادی دینے کے کسی معین پروگرام کا اعلان نہیں کیا تھا۔پنڈت جواہر لال نہرو، ابولکلام آزاد، ولجھ بھائی پٹیل اور کانگرس کے کئی اور لیڈ ر ا بھی جیلوں میں تھے اور اس وجہ سے کانگرس اور حکومت کے درمیان تناؤ کی کیفیت تھی۔مسلم لیگ اور کانگرس کے درمیان خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی تھی۔اسی طرح مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے اختلافات بھی منظرِ عام پر آ رہے تھے۔اور یہ خدشات ابھر رہے تھے کہ یہ صورت حال نئے مسائل اور فتنوں کو جنم نہ دے دے۔اس پس منظر میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے سال کے آغاز میں تمام گروہوں کو اپیل کی کہ وہ آپس کے اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں۔آپ نے فرمایا کہ گو جماعت احمدیہ کی تعداد قلیل ہے اور بہت سے حلقے اس اپیل کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے لیکن اگر تمام مبلغین اور مختلف ممالک میں قائم جماعتیں اپنا فرض ادا کریں اور اسے اپنے حلقہ میں پھیلائیں تو یہ آواز کروڑوں انسانوں تک پہنچائی جا سکتی ہے۔آپ نے واضح فرمایا کہ ہماری جماعت مذہبی جماعت ہے اور ہم سیاسیات میں ہرگز دخل نہیں دینا چاہتے لیکن یہ اختلافات ہم پر بھی اثر انداز ہورہے ہیں۔پورے ملک میں احمد یوں پر مختلف گروہوں کا دباؤ پڑتا ہے کہ وہ ان کا ساتھ دیں۔اور جب وہ ان کی طرف نہیں جاتے تو وہ ناراض ہوتے ہیں اور انہیں باغی قرار دیتے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں ہر ایک کی خدمت کے لئے پیدا کیا ہے۔اس صورتِ حال میں احمدی راہنمائی کے لئے اپنے امام کی طرف دیکھتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ یہ اپیل سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی ہے اور دنیا میں صلح اور امن کو قائم کرنے کے لئے ہے۔آپ نے انگلستان کو نصیحت فرمائی کہ وہ ہندوستان سے صلح کر لے اور اس میں انگلستان کا ہی فائدہ ہے۔کیونکہ اب ہندوستان کو وہ مرتبہ اور عزت ملنے والی ہے جو اس سے پہلے ان کو خواب میں