سلسلہ احمدیہ — Page 115
115 یہاں پر احمدیت کا پیغام سب سے پہلے مالا بار کے ایک مخلص تاجر مکرم عبد القادر صاحب کے ذریعہ پہنچا جو ۱۹۳۱ء میں کاروبار کے لئے تشریف لائے اور یہاں کے جزیرے لا بوان میں آباد ہو گئے۔دوسری جنگِ عظیم کے آخری سال میں ایک پر جوش داعی الی اللہ مکرم ڈاکٹر بدر الدین صاحب شمالی بورنیو میں بسلسلہ ملازمت مقیم تھے۔پھر حضور کے ارشاد پر ملازمت سے سبکدوش ہو کر آپ اپریل ۱۹۴۷ء میں دوبارہ بور نیو آئے اور آنریری مبلغ کی حیثیت سے کام کیا۔شمالی بور نیو میں مستقل مشن کا قیام مولوی محمد زہدی صاحب آف ملایا کے ذریعہ ہوا جنہوں نے جون ۱۹۴۷ء میں یہاں آکر تبلیغ کا آغاز کیا۔سپین چین وہ ملک ہے جس میں مسلمانوں نے صدیوں حکومت کی مگر پھر متعصب عیسائی بادشا ہوں نے جبراً اسلام کو وہاں سے مٹا دیا۔جس ملک کے ہر شہر میں بیسیوں مساجد تھیں وہاں اب اسلام کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں تھا۔بہت سی قدیم مساجد اب تک گرجوں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔سپین کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ کے یہ الفاظ ہر احمدی کے جذبات کی صحیح تر جمانی کرتے ہیں کیا چین سے نکل جانے کی وجہ سے ہم اسے بھول گئے ہیں؟ ہم یقیناً اسے نہیں بھولے۔ہم یقیناً ایک دفعہ پھر پین کو لیں گے۔۔۔ہماری تلوار میں جس مقام پر جا کر کند ہو گئیں وہاں سے ہماری زبانوں کا حملہ شروع ہوگا اور اسلام کے خوبصورت اصولوں کو پیش کر کے ہم اپنے۔۔۔بھائیوں کو خود اپنا جز و بنالیں گے۔“ سپین میں پہلا مشن قائم کرنے کی کوشش مکرم محمد شریف صاحب گجراتی کے ذریعہ ۱۹۳۶ء میں ہوئی تھی مگر انہیں خانہ جنگی کی وجہ سے پین چھوڑنا پڑا۔پھر تحریک جدید کے مجاہد مولا نا کرم الہی صاحب ظفر اور مولوی محمد الحق صاحب ۱۰ جون ۱۹۴۶ء کو سپین کے شہر میڈرڈ پہنچے۔پین کی اکثریت کیتھولک عیسائی ہے اور اس دور میں اس ملک پر پادریوں کی گرفت بہت مضبوط تھی۔دوسرے مذاہب تو ایک طرف رہے ، پروٹسٹنٹ عیسائیوں کو بھی مذہبی تبلیغ کی آزادی نہیں تھی۔دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو اپنی عبادت گاہ کے باہر بورڈ آویزاں کرنے کی بھی ممانعت